تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 116
فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ﴿116﴾
- فَلَوْپس کیوں
- لَا كَانَنہ ہوئے
- مِنَسے
- الْقُرُوْنِقومیں
- مِنْسے
- قَبْلِكُمْتم سے پہلے
- اُولُوْا بَقِيَّةٍصاحبِ خیر
- يَّنْهَوْنَروکتے
- عَنِسے
- الْفَسَادِفساد
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- اِلَّامگر
- قَلِيْلًاتھوڑے
- مِّمَّنْسے۔ جو
- اَنْجَيْنَاہم نے بچالیا
- مِنْهُمْان سے
- وَاتَّبَعَاور پیچھے رہے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- ظَلَمُوْاانہوں نے ظلم کیا (ظالم)
- مَآ اُتْرِفُوْاجو انہیں دی گئی
- فِيْهِاس میں
- وَكَانُوْااور تھے وہ
- مُجْرِمِيْنَگنہگار
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے کی امتوں میں سے ایسے حاملین حق ہوتے جو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے مگر تھوڑے ان میں سے جن کو ہم نے ان میں سے نجات بخشی اور جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا وہ اسی عیش میں پڑے رہے جس میں تھے اور وہ مجرم تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّةٍ يَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا مِنْهُمْ ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِيْهِ وَكَانُوْا مُجْرِمِيْنَ۔
اولوا بقیۃ کا مفہوم : یعنی اخیار و صالحین اور حاملینِ حق عربی میں جب کہیں کہ فلان بقیۃ قومہ، تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ اپنی قوم کے اخیار و صالحین میں سے ہے۔
ما اترفوا فیہ۔ اترفہ المال، کے معنی ہوں گے کہ مال و اسباب نے اس کو طغیان و فساد میں مبتلا کردیا۔ یعنی اسباب عیش و تنعم کی فراوانی نے ان کو جس سرمستی میں مبتلا کردیا تھا اسی میں پڑے رہے۔
قریش کو تنبیہ : اب یہ ان معذب قوموں کی طرف جن کا ذکر اوپر گزرا ہے اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کیا چیز ان کی تباہی کا باعث ہوئی اور مقصود اس سے قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ اگر وہی روش تم نے اختیار کرلی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ تمہارا انجام سے مختلف ہو۔ فرمایا کہ ان میں ایسے لوگ باقی نہیں رہ گئے تھے جو لوگوں کو خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے۔ ان کی اکثریت ایسے ہی لوگوں پر مشتمل تھی جو اسی سرمستی میں مگن پڑے رہے جس میں مبتلا تھے۔ بس تھورے ہی لوگ ان میں ایسے نکلے جو خدا سے ڈرنے والے تھے۔ سو ان کو ہم نے نجات دی۔ باقی جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے وہ اپنی مرغوبات کے پیچھے پڑے رہے اور ہلاک ہوئے اس لیے کہ وہ مجرم تھے۔