Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 117

  1. وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ﴿117﴾

    1. وَمَا كَانَاور نہیں ہے
    2. رَبُّكَتیرا رب
    3. لِيُهْلِكَکہ ہلاک کردے
    4. الْقُرٰيبستیاں
    5. بِظُلْمٍظلم سے
    6. وَّاَهْلُهَاجبکہ وہاں کے لوگ
    7. مُصْلِحُوْنَنیکو کار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تیرا رب ایسا نہیں کہ وہ بستیوں کو ہلاک کردے کسی ظلم کی پاداش میں جب کہ ان کے باشندے اصلاح میں سرگرم ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ۔ قوموں کی ہلاکت کے باب میں سنت الٰہی : اب یہ قوموں کی ہلاکت کے باب میں سنت الٰہی واضح فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ کسی قریہ کو ان کے کسی ظلم کی پاداش میں ہلاک کردے جب کہ اس کے باشندے بحیثیت مجموعی اصلاح کرنے والے ہوں۔ مطلب یہ کہ خدا کا عذاب کسی قوم پر اس وقت آتا ہے جب قوم کا مزاج بحیثیت مجموعی بگر جاتا ہے۔ اصلاح کرنے والے یا تو اس میں باقی رہ ہی نہیں جاتے یا رہتے ہیں تو خال خال نہایت قلیل تعداد میں۔ لفظ " قری " یہاں قوموں کے مفہوم میں ہے اور بظلم کی تنکیر سے مقصود اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ انفرادی خرابیاں عذاب الٰہی کا باعث نہیں ہوتیں۔ عذاب الٰہی اسی وقت نازل ہوتا ہے جب مجموعہ کا مزاج فاسد ہوجاتا ہے۔