تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 11. Hud · Ayah 28
Tafseerقَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ﴿28﴾
- قَالَاس نے کہا
- يٰقَوْمِاے میری قوم
- اَرَءَيْتُمْتم دیکھو تو
- اِنْاگر
- كُنْتُمیں ہوں
- عَلٰيپر
- بَيِّنَةٍواضح دلیل
- مِّنْ رَّبِّيْاپنے رب سے
- وَاٰتٰىنِيْاور اس نے دی مجھے
- رَحْمَةًرحمت
- مِّنْ عِنْدِهٖاپنے پاس سے
- فَعُمِّيَتْوہ دکھائی نہیں دیتی
- عَلَيْكُمْتمہیں
- اَنُلْزِمُكُمُوْهَاکیا ہم وہ تمہیں زبردستی منوائیں
- وَاَنْتُمْاور تم
- لَهَااس سے
- كٰرِهُوْنَبیزار ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا، اے میرے ہم قومو ! اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور پھر اس نے خاص اپنی رحمت سے بھی مجھے نوازا اور وہ تم سے پوشیدہ رہی تو کیا ہم اس کو تم پر چپکا دیں جب کہ تم اس سے بیزار بھی ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ ۭ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ۔
معارضات کا جواب : اب اس آیت میں اور آگے کی آیت میں مذکورہ بالا معارضات میں سے ایک ایک کا جواب آرہا ہے۔ حضرت نوح نے پہلی بات تو یہ فرمائی کہ میں جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اس کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک تو اس نور فطرت (بینہ) پر جو میرے اندر پہلے سے موجود تھا اور دوسرے اس وحی الٰہی (رحمت) پر جس سے میرے رب نے مجھے نوازا۔ اگر تمہارے اندر بھی فطرت کی وہ روشنی موجود ہوتی جو میرے اندر ہے تب تو میری یہ دعوت تمہیں خود اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی اور تم اس کو اللہ کی رحمت سمجھ کر قبول کرتے لیکن مشکل یہ ہے کہ تم نے اپنی ناشکریوں اور بد اعمالیوں سے اپنی فطرت کے نور کو گل کردیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ قدرت کے قانون کے تحت تمہارے دل تاریک کردیے گئے ہیں اور ان کے اندر کسی ہدایت کو قبول کرنے کی صلاحیت سرے سے باقی ہی نہیں رہ گئی ہے۔ اب یہ کس طرح ممکن ہے کہ میں تمہارے اوپر ایک ایسی چیز چپکا دوں جس کے چپکنے کے لیے تمہارے اندر سرے سے کوئی لوث باقی ہی نہیں رہ گیا ہے اور وہ بھی اس حال میں کہ تم اس کے نام سے بھی بیزار ہو۔ پیچھے آیت 17 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔