تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 112. Al-Ikhlaas · Ayah 1
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ﴿1﴾
- قُلْکہدیجئے
- هُوَوہ
- اللّٰهُاللہ
- اَحَدٌایک
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو ، وہ اللہ سب سے الگ ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’قُلْ‘ منادی کرنے کے مفہوم میں: یہ ’قُلْ‘ اسی مفہوم میں ہے جس میں ’قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ (الکٰفرون ۱۰۹: ۱) میں ہے یعنی اعلان کر دو، برملا کہہ دو اور اس طرح منادی کر دو کہ ہر شخص سن اور جان لے، نہ کسی کو کوئی اشتباہ باقی رہے، نہ کسی مزید سوال و جواب کی گنجائش رہ جائے۔
اعلان کا موقع و محل: اس طرح کے اعلان کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب بحث و مناظرہ کا پورا دور گزر چکتا ہے اور یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سمجھانے کا حق ادا ہو چکا ہے، اب جو لوگ مزید بحثیں اٹھا ر ہے ہیں وہ سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ بات کو الجھانے اور طول دینے کے لیے اٹھا رہے ہیں۔ اس طرح کے موقع پر یہ مناسب ہوتا ہے کہ بات دوٹوک اور فیصلہ کن انداز میں اس طرح کہہ دی جائے کہ مخاطب اندازہ کر لے کہ متکلم نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا، اب وہ نہ اپنا مزید وقت ضائع کرنے کے لیے تیار ہے اور نہ اس کے موقف میں کسی تبدیلی یا لچک کی گنجائش ہے۔
’ھُوَ‘ کا مفہوم: ’ھُوَ‘ میرے نزدیک ضمیر شان ہے۔ یہ اس معہود ذہنی یا صورت حال کے لیے آتی ہے جو مخاطب اور متکلم میں اس طرح مشترک ہو کہ اس کے بولتے ہی بے تکلف ذہن اس کی طرف منتقل ہو جائے۔ اسلام کی دعوت شروع ہونے کے بعد اہل عرب کی ہر مجلس میں سب سے زیادہ گرم موضوع یہی اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا موضوع تھا۔ دعوت کے دوسرے عنوانات۔۔۔ معاد اور رسالت۔۔۔ بھی زیر بحث آتے لیکن ان کی حیثیت ضمنی مباحث کی تھی۔ توحید کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم تھا۔ قریش اس کو اپنی اور اپنے آباء و اجداد کی شان کا مسئلہ بنا بیٹھے تھے اور کسی قیمت پر بھی اپنے معبودوں اور اپنے ان اجداد کی توہین گوارا کرنے کے لیے تیار نہ تھے جو ان کو پوجتے رہے تھے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر آتا ہے تو وہ دعوت دینے والوں پر ان کا منہ نوچنے کے لیے جھپٹ پڑتے ہیں۔ ایک طرف قریش کی یہ انانیت دوسری طرف قرآن اور رسول کا وہ بے لچک موقف جو سورۂ کافرون میں بیان ہوا کہ پوری قوم کو کاٹ پھینکنا منظور لیکن شرک کے ساتھ کوئی سمجھوتہ منظور نہیں۔
جب تک بحث صرف مشرکین قریش سے تھی اس وقت تک تو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے مسئلہ میں کچھ زیادہ الجھنیں نہیں پیدا ہوئی تھیں۔ انھوں نے تقلید آباء میں بت پرستی اختیار تو کر لی تھی لیکن اس کی تائید میں انھوں نے نہ متکلمانہ قسم کی موشگافیاں پیدا کی تھیں اور نہ اپنی امیت کے سبب سے یہ چیز وہ پیدا کر ہی سکتے تھے لیکن مدینہ میں کھلم کھلا اہل کتاب سے بھی سابقہ پیش آیا جو اہل کتاب ہونے کے باوجود نہ صرف شرک کی نہایت گھنونی قسموں میں مبتلا تھے بلکہ انھوں نے اپنے شرک کی حمایت میں ایک پورا علم کلام تیار کر رکھا تھا۔ خصوصاً نصاریٰ کی میتھالوجی (MYTHOLOGY) تو اپنی الجھنوں کے اعتبار سے دنیا میں شاید ایک ہی ہے۔ قرآن نے ان سب کو چیلنج کیا، ان سے مباحثے کیے اور ان کی گمراہیاں ان پر واضح کیں۔ ان میں سے جن کو ایمان کی توفیق ہوئی وہ ایمان لائے۔ جو ایمان نہیں لائے ان کو قرآن نے اپنے دلائل سے اس طرح پسپا کر دیا کہ ان کے اہل کتاب ہونے کا رعب کم از کم عربوں کے دلوں پر سے تو بالکل ہی اٹھ گیا۔
توحید کی شان میں ایک مختصر اور جامع سورہ: یہ نئی صورت مقتضی ہوئی کہ توحید کے باب میں ایک مختصر سورہ بھی نازل ہو جو مشرکین اور اہل کتاب دونوں کے پیدا کردہ شرک کے ہر رخنہ کو اس طرح بند کر دے کہ شیطان کے لیے دراندازی کی کوئی راہ کھلی نہ رہ جائے اور جو جامع ہونے کے ساتھ ساتھ اتنی مختصر بھی ہو کہ اس کو ہر شخص یاد کر کے تعویذ کی طرح حرز جاں بنا سکے۔ چانچہ یہ سورہ نازل ہوئی جو نہایت چھوٹی چھوٹی کل چار آیتوں پر مشتمل ہے لیکن ’معانی‘ کے اعتبار سے اس کو بعض عارفین قرآن نے ثلث قرآن کے برابر قرار دیا ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ بات بالکل مبنی برحقیقت ہے۔ قرآن کے مباحث اگر اپنے مطالب کے اعتبار سے جمع کیے جائیں تو وہ تین جامع عنوانات کے تحت جمع ہو سکتے ہیں: توحید، معاد اور رسالت۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ توحید کا حصہ قرآن میں بقدر ایک ثلث کے ہے۔ یہ مباحث قرآن کی مختلف سورتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان پھیلے ہوئے مباحث کو اگر اچھی طرح چھانیے تو ان کے اندر سے خدا کی ذات و صفات سے متعلق وہ جواہر ریزے نکلیں گے جو اس مختصر سورہ میں جمع کر دیے گئے ہیں۔ گویا قرآن میں رد شرک کی ساری بحث انہی چند نکتوں پرمبنی ہے جن کا اس سورہ میں اجمال کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی اصلی صفات جن کا علم ضروری ہے: ’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ‘ کے الفاظ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ کسی نے نبی ﷺ سے مطالبہ کیا ہو کہ آپ اللہ کی صفات بیان کریں تب ہی آپ نے یہ سورہ سنائی ہو۔ بلکہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، فضا میں اس سوال پر گرما گرمی کا پایا جانا اس بات کے لیے کافی تھا کہ یہ سورہ نازل ہو اور لوگوں کو سنا دی جائے۔ ’ھُوَ اللّٰہُ‘ کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اللہ جس کے بارے میں تم سوال و جواب اور بحث و جدال کر رہے ہو اس کی صفات جاننی چاہتے ہو تو مجھ سے سنو، وہ یہ یہ ہیں۔ اس کے بعد وہ صفات بیان ہوئی ہیں جو شرک کے تمام رخنوں کو بند کر دینے والی ہیں۔ مخاطبوں کی گمراہی دور کرنے کے لیے اصلاً انہی صفات کا جاننا ضروری تھا۔ ان کو جان لینے کے بعد دوسری صفات کے جاننے کے لیے راہ خود باز ہو جاتی ہے۔
’اللہ‘: ’اَللّٰہُ‘ اسم ذات ہے۔ اس کے مفہوم پر اس کے محل میں ہم گفتگو کر چکے ہیں۔۱ مشرکین عرب اس نام کو اسم ذات ہی کی حیثیت سے استعمال کرتے تھے۔ قرآن نے تمام صفات حسنیٰ کا موصوف اسی اسم کو قرار دیا ہے۔ فرمایا کہ وہ اللہ ’اَحَدٌ‘ ہے۔ اہل لغت نے ’وَاحِدٌ‘ اور ’اَحَدٌ‘ میں یہ فرق کیا ہے کہ ’اَحَدٌ‘ وہ ہے جس کی ذات میں کوئی شریک نہ ہو اور ’وَاحِدٌ‘ وہ ہے جس کی صفات میں کوئی اس کا شریک نہ ہو۔ غالباً اسی وجہ سے لفظ ’اَحَدٌ‘ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے لیے صفت کے طور پر نہیں آیا۔ اس سے یکتائی و بے ہمگی من کل الوجوہ سمجھی جاتی ہے۔ ہر رشتہ و قرابت سے پاکی و برتری اس کا لازمہ ہے۔ اس سے یہ بات بھی نکلی کہ وہ قدیم ہے اور باقی سب حادث و مخلوق۔ ظاہر ہے کہ جو سب سے پہلے خود بخود تھا وہ ہمیشہ سے تھا کیونکہ جو کبھی نیست رہا ہو وہ خود ہست نہیں ہو سکتا۔ اس وجہ سے دو باتیں ماننی ضروری ہوئیں۔ ایک یہ کہ وہ ہمیشہ سے ہے۔ دوسری یہ کہ اس کے سوا جو بھی ہیں وہ سب اس کی مخلوق ہیں۔ بے ہمگی کے یہ لازمی نتیجے ہیں جن کا انکار عقل کے خلاف ہے۔ پس یہ کہنا کہ وہ ’اَحَدٌ‘ ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ وہ قدیم لم یزل اور خالق کل ہے۔
_____
۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد اول، صفحات: ۵-۶۔