تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 111. Al-Masad · Ayah 5
فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ع﴿5﴾
- فِيْمیں
- جِيْدِهَااس کی گردن
- حَبْلٌرسی
- مِّنْسے
- مَّسَدٍکھجور
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس کی گردن میں بٹی ہوئی رسی ہوگی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ابولہب کی بیوی کے گلے کا ہار قیامت کے دن: یہ اسی تصویر کی تکمیل جو اس سے پہلے والی آیت میں کھینچی گئی ہے۔ یعنی اس کی گردن میں اس طرح کی موٹی رسی پڑی ہو گی جس طرح کی رسی ایندھن ڈھونے والی لونڈیوں کی گردن میں ہوتی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اس آیت میں جو حالت اس کی بیان ہوئی ہے اس کو مفسرین آخرت کے متعلق مانتے ہیں، پھر تعجب ہے کہ اس سے پہلے والے ٹکڑے کو انھوں نے آخرت سے متعلق کیوں نہیں مانا جب کہ عربیت کے قاعدے سے ان دونوں کے درمیان ایسا اتصال ہے کہ ان کو کسی طرح الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔
لفظ ’مَسَدٌ‘ کھجور کے اس ریشے یا پتے یا چھلکے کے لیے بولا جاتا ہے جس سے مضبوط رسیاں بٹی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ لفظ عام طور پر مضبوط اور موٹی رسی کے لیے بھی آتا ہے، خواہ وہ کھجور کے ریشے کی ہو یا چمڑے کی یا اس قسم کی کسی اور چیز کی۔ چرخی کی رسی کے لیے اس کا استعمال عام ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مضبوط اور موٹی رسی کے معنی میں معروف ہے۔
آیت کی ظاہر تاویل یہ ہے کہ جب وہ قیامت کے دن اٹھے گی تو اس کی گردن میں ایک مضبوط رسی پڑی ہو گی جو ایندھن ڈھونے والی لونڈیوں کی گردن میں پڑی ہوئی رسی کی طرح موٹی ہو گی۔
اب غور کیجیے کہ اس صفت کے اضافے سے کیا نئے حقائق روشنی میں آتے ہیں:
۱۔ اس میں ابولہب کی بیوی کی اس حالت کی وضاحت ہے جو لفظ ’حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ‘ میں بیان ہوئی ہے۔
۲۔ اس میں اس ذلت کی تصویر ہے جس میں وہ قیامت کے دن گرفتار ہو گی۔
۳۔ اس میں عمل اور نتیجۂ عمل کی موافقت کی طرف اشارہ ہے کہ جس ہار کو پہن کر وہ دنیا میں اتراتی تھی قیامت کے دن وہ بالکل موٹی رسی کی شکل میں بدل جائے گا، جس کے سبب سے اس کی مثال اس لونڈی کی ہو جائے گی جو گلے میں رسی ڈال کر لکڑیاں چننے جا رہی ہو۔
۴۔ مغرور عورتیں آرائش کے ساتھ ساتھ نمائش کی بھی دلدادہ ہوتی ہیں اس وجہ سے سامان آرائش کے حجم اور وزن کا خاص خیال رکھتی ہیں، اس وجہ سے ضروری ہوا کہ رسی موٹی ہو۔