Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 113. Al-Falaq · Ayah 1

  1. قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ﴿1﴾

    1. قُلْکہدیجئے
    2. اَعُوْذُمیں پناہ میں آتا ہوں
    3. بِرَبِّرب کی
    4. الْفَلَقِصبح
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ، میں پناہ مانگتا ہوں نمودار کرنے والے خدا کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’فلق‘ کا وسیع مفہوم:’الْفَلَقِ‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے صبح کیا ہے لیکن اس کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں۔ صبح چونکہ شب کے پردے کو چاک کر کے نمودار ہوتی ہے اس وجہ سے اس پر بھی اس کا اطلاق ہوا۔ لیکن پھاڑ کر نمودار ہونے والی چیز صرف صبح ہی نہیں ہے۔ ہر چیز کسی نہ کسی چیز کے اندر سے اس کو چاک کر کے ہی نمودار ہوتی ہے۔ گٹھلی سے پودا نمودار ہوتا ہے، دانے کو پھاڑ کر انکھوے نکلتے ہیں، زمین کو پھاڑ کر نباتات اگتی ہے، پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے چشمے اور دریا ابلتے ہیں، اسی طرح انڈے کو پھاڑ کر بچے نکلتے ہیں اور رحم کے منہ کو کھول کر دوسری تمام زندہ مخلوقات وجود پذیر ہوتی ہیں۔ پھر لفظ ’فَلَقٌ‘ کو اس قدر محدود کر دینے کے لیے کیا جواز ہے؟ ہمارے نزدیک اس کو اس کے وسیع معنی میں رکھنا ہی موقع و محل کے اعتبار سے زیادہ موزوں ہے۔ لغت میں یہ لفظ وسیع معنی میں آیا بھی ہے۔ قرآن میں جس طرح ’فَالِقُ الإِصْبَاحِ‘ (الانعام ۶: ۹۶) کی ترکیب استعمال ہوئی ہے اسی طرح ’فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی‘ (الانعام ۶: ۹۵) کی ترکیب بھی وارد ہوئی ہے۔ اسی طرح زمین اور آسمان سے متعلق ارشاد ہے کہ ’کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا‘ (الانبیاء ۲۱: ۳۰) وہ دونوں بند ہوتے ہیں تو ہم ان کو پھاڑتے ہیں۔ یعنی آسمان کو کھول کر اس سے پانی برساتے اور زمین کو پھاڑ کر اس سے نباتات اگاتے ہیں۔ میں نے لفظ کی اس وسعت کو پیش نظر رکھ کر ’رَبِّ الْفَلَقِ‘ کا ترجمہ نمودار کرنے والے خداوند، کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ ترجمہ زیادہ جامع اور معنی خیز ہے۔ آگے کے مضمون سے بھی اس کو، جیسا کہ وضاحت آ رہی ہے، زیادہ مناسبت ہے۔