Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 113. Al-Falaq · Ayah 2

  1. مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ﴿2﴾

    1. مِنْ شَرِّشر سے
    2. مَا خَلَقَجو اس نے پیدا کیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مخلوقات کے شر سے پناہ خالق ہی دے سکتا ہے: یہ اس مقصد کا حوالہ ہے جس کے لیے تمام عالم کے نمودار کرنے والے خداوند کی دہائی کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمایا کہ جس خداوند نے تمام عالم کو نمودار کیا ہے اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے پناہ ان کے پیدا کرنے والے ہی سے مانگو، کسی دوسرے سے نہ مانگو۔ کوئی دوسرا ان کے شر سے پناہ اسی صورت میں دے سکتا ہے کہ جب وہ ان کے پیدا کرنے والے سے زیادہ طاقت ور ہو اور یہ بات بالکل خلاف عقل ہے کہ کوئی چیز خالق کائنات سے زیادہ قدرت و اختیار والی ہو۔ اس وجہ سے خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے کسی غیر خدا کی پناہ ڈھونڈنا سراسر سفاہت ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ چیزیں جتنی بھی ہیں سب خدا ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ خالق اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اللہ نے چیزیں مقصد خیر سے پیدا کی ہیں لیکن وہ اس کے حکم سے شر بھی بن جاتی ہیں: اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں وہ اصلاً مقصد خیر سے پیدا کی ہیں لیکن وہ جب چاہے ان کو شر میں بھی تبدیل کر سکتا ہے۔ بارش اس دنیا کے لیے سراسر رحمت ہے لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو اس کو عذاب بھی بنا دیتا ہے۔ اسی طرح خود انسان اپنی بے خبری اور سوء استعمال سے ایک چیز کو جو اصلاً نافع ہے، مضر بنا لیتا ہے۔ اشیاء کے ان برے پہلوؤں سے اپنے کو محفوظ رکھنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ آدمی خدا ہی سے استعاذہ کرے۔ نہ ان اشیاء میں سے کسی چیز کو مؤثر بالذات سمجھ کر ان کی دہائی دینی شروع کر دے جس طرح مشرک قومیں کرتی ہیں اور نہ خدا کے سوا کسی ’غوث‘ یا ’قطب‘ کو پکارنا شروع کر دے کہ وہ آ کر خدا کی اس پکڑ سے اس کو بچائیں۔ خدا کی پکڑ سے خدا کے سوا کوئی دوسرا رہائی نہیں دے سکتا۔ آفتوں سے اپنے کو بچانے کی جو جائز تدبیریں انسان اختیار کرتا ہے، مثلاً کسی بیماری میں ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے، تو یہ چیز اس کے منافی نہیں ہے بشرطیکہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ طبیب حقیقی صرف اللہ ہے، شفا صرف اسی کے اختیار میں ہے، اگر وہ شفا نہ دے تو کسی دوسری طاقت کے بس میں نہیں ہے کہ وہ کسی معمولی سے معمولی بیماری سے بھی نجات دے سکے۔ اس تفصیل سے واضح ہوا کہ یہ ایک ہی کلمہ شرک کے بہت سے دروازوں کے بند کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اس سے ثنویت اور خیر و شر کی الگ الگ خدائی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مشرک قومیں ہر آفت کو بجائے خود ایک مستقل نافع و ضار وجود سمجھ کر اس کی دہائی پکارنی شروع کر دیتی ہیں۔ حالانکہ کوئی آفت اپنا خود کوئی مستقل وجود نہیں رکھتی بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں ہی کے ظلال و آثار میں سے ہیں جو اللہ کے اذن سے وجود میں آتی ہیں، اسی کے حکم سے اثرانداز ہوتی ہیں اور تنہا اسی کی مدد سے ان کے شر سے نجات ملتی ہے اس وجہ سے حقیقی پناہ اور ماویٰ و ملجا وہی ہے۔