Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 111

  1. لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ع﴿111﴾

    1. لَقَدْالبتہ
    2. كَانَہے
    3. فِيْمیں
    4. قَصَصِهِمْان کے قصے
    5. عِبْرَةٌعبرت (نصیحت)
    6. لِّاُولِي الْاَلْبَابِعقلمندوں کے لیے
    7. مَا كَانَنہیں ہے
    8. حَدِيْثًابات
    9. يُّفْتَرٰىبنائی ہوئی
    10. وَلٰكِنْاور لیکن (بلکہ)
    11. تَصْدِيْقَتصدیق
    12. الَّذِيْوہ جو
    13. بَيْنَ يَدَيْهِاس (اپنے سے) پہلی
    14. وَتَفْصِيْلَاور تفصیل (بیان)
    15. كُلِّہر
    16. شَيْءٍبات
    17. وَّهُدًىاور ہدایت
    18. وَّرَحْمَةًاور رحمت
    19. لِّقَوْمٍلوگوں کے لیے
    20. يُّؤْمِنُوْنَجو ایمان لاتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کی سرگزشتوں میں اہل عقل کے لیے بڑا سامانِ عبرت ہے۔ یہ کوئی گھڑی ہوئی چیز نہیں بلکہ تصدیق ہے اس چیز کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ۭ مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ قرآن کی اصلی حقیقت : یعنی پچھلے انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشتوں میں اہل عقل کے لیے بڑا سامان عبرت موجود ہے بشرطیکہ یہ عقل سے کام لیں اور ان سرگزشتوں کو صرف دوسروں کی حکایت سمجھ کر نہ سنیں بلکہ ان سے خود اپنی زندگی کو درست کرنے کے لیے سبق حاصل کریں، یہ قرآن کوئی من گھڑت کہانی نہیں ہے بلکہ جو پیشینگوئیاں اور جو حقائق آسمانی کتابوں میں پہلے سے موجود ہیں یہ ان کی تصدیق، ہر متعلق چیز کی تفصیل، آغاز کے اعتبار سے رہنمائی اور انجام کے اعتبار سے رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائی۔ یہ آخری سطریں ہیں جو اس بےمایہ کو اس سورة کی تفسیر میں لکھنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔