تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 1
الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿1﴾
- الٓمّٓرٰالف لام میم را
- تِلْكَیہ
- اٰيٰتُآیتیں
- الْكِتٰبِکتاب
- وَالَّذِيْٓاور وہ جو کہ
- اُنْزِلَاتارا گیا
- اِلَيْكَتمہاری طرف
- مِنْ رَّبِّكَتمہارے رب کی طرف سے
- الْحَقُّحق
- وَلٰكِنَّاور لیکن (مگر)
- اَكْثَرَ النَّاسِاکثر لوگ
- لَا يُؤْمِنُوْنَایمان نہیں لاتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ الف، لام، میم، را ہے۔ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں اور جو چیز تمہاری طرف تمہارے خداوند کی طرف سے اتاری گئی ہے حق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں مان رہے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
الۗمّۗرٰ ۣتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ ۭ وَالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔
حروف مقطعات پر تفصیلی بحث بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ سورتوں کے نام ہیں۔ یہاں مبتدا محذوف ہے یعنی ھذہ المرٰ ، یہ المرٰ ہے۔
اظہار احسان اور اندذار بیک وقت دونوں : تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ ، لفظ الکتٰب پر تفسیلی بحث بقرہ کی پہلی آیات کے تحت گزر چکی ہے۔ اس سے مراد وہ موعود و منتطر کتاب الٰہی ہے جس کو آخری صحیفہ ہدایت کی حیثیت سے اتارنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ فرمایا تھا۔ تلک کا اشارہ المرا کی طرف ہے۔ یعنی یہ سورة موعود و منتظر کتاب الٰہی کی آیات پر مشتمل ہے۔ اس فقرے میں بیک وقت اظہار احسان بھی ہے اور دھمکی بھی۔ احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم نعمت، جس کا اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ فرمایا تھا، اتار دی ہے۔ اب یہ لوگوں کا فرض ہے کہ اس کی صدق دل سے قدر کریں اور اس کی برکتوں سے متتمع ہوں، دھمکی کا پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں تو جو لوگ ان کی قدر کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑائیں گے اور ان کی مخالفت میں اپنا زور صرف کریں گے وہ خود سوچ لیں کہ وہ اپنے لیے کس شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔
پیغمبر ﷺ کو تسلی : َالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔ یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ کتاب جو تم پر تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی ایک ایک بات حق ہے۔ اس کا ہر دعوی ثابت، مدلل اور مبرہن ہے اور اس کی ہر چیز شدنی ہے۔ اس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے اختلاف کیا جاسکے، یہ لوگوں کی اپنی محرومی و بدقسمتی ہے کہ ان کی اکثریت اس کو قبول نہیں کر رہی ہے۔