تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 18
Tafseerوَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ﴿18﴾
- وَجَآءُوْاور وہ آئے (لائے)
- عَلٰيپر
- قَمِيْصِهٖاس کی قمیص
- بِدَمٍخون کے ساتھ
- كَذِبٍجھوٹا
- قَالَاس نے کہا
- بَلْبلکہ
- سَوَّلَتْبنا لی
- لَكُمْتمہارے لیے
- اَنْفُسُكُمْتمہارے دل
- اَمْرًاایک کام
- فَصَبْرٌپس صبر
- جَمِيْلٌاچھا
- وَاللّٰهُاور اللہ
- الْمُسْتَعَانُمدد چاہتا ہوں
- عَلٰيپر
- مَا تَصِفُوْنَجو تم بیان کرتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ اس کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے۔ اس نے کہا کہ بلکہ یہ تو تمہارے جی کی ایک گھڑی ہوئی بات ہے تو صبر جمیل کی توفیق ملے اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس میں خدا ہی سہارا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ ۭ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ۔
سولت لہ نفسہ کذا، زینتہ لہ وسھلتہ لہ وھونتہ۔ شیطان نے اس کی نگاہ میں فلاں بات کھبادی اور آسان کردی۔
صبر جیل کا مفہوم : فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ مبتدا بھی ہوسکتا ہے اس لیے کہ نکرہ موصوف میں مبتدا ہونے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے اور مبتدائے محذوف کی خبر بھی ہوسکتا ہے۔ ہم نے مبتدا مان کر ترجمہ کیا ہے اور خبر محذوف کو ترجمہ میں کھول دیا ہے۔ ایسے مواقع میں خبر کے محذوف ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ بالکل واضح ہوتی ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ساری توجہ اصل نقطہ پر مرکوز ہوجاتی ہے۔ صَبْرٌ جَمِيْلٌ سے مراد وہ صبر ہے جو ہر قسم کے جزع فزع، گلے شکوے اور نوحہ و ماتم سے پاک ہو۔ اگر قرآن اور تورات کا فرق دیکھنا ہو تو صرف یہی ایک مقام تورات میں دیکھ لیجیے۔ قرآن تو ان کے صبر جمیل کی تعریف کرتا ہے اور تورات میں ہے کہ " تب یعقوب نے اپنے کپڑے پھاڑے اور ٹاٹ اپنے کو ل ہے پر ڈالا اور بہت دن تک اپنے بیٹے کا غم کیا " (پیدائش۔ 37:، 34)
حضرت یعقوب کو اپنی بات باور کرانے کے لیے ان لوگوں نے تدبیر یہ کی کہ حضرت یوسف کے قمیض پر کسی چیز کے خون کے دھبے بھی ڈال لائے لیکن حضرت یعقوب نے ایک لمحہ کے لیے بھی ان کی بات باور نہیں کی۔ سنتے ہی فرمایا کہ یہ سب تمہارا من گھڑت قصہ ہے تو صبر جمیل کی توفیق ملے اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اللہ ہی مدد فرمائے تو اس کا عقدہ کھلے۔