تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 24
Tafseerوَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ﴿24﴾
- وَلَقَدْ هَمَّتْاور بیشک اس عورت نے ارادہ کیا
- بِهٖاس کا
- وَهَمَّاور وہ ارادہ کرتے
- بِهَااس کا
- لَوْلَآاگر نہ ہوتا
- اَنْکہ
- رَّاٰوہ دیکھے
- بُرْهَانَدلیل
- رَبِّهٖاپنا رب
- كَذٰلِكَاسی طرح
- لِنَصْرِفَہم نے پھیر دیا
- عَنْهُاس سے
- السُّوْٓءَبرائی
- وَالْفَحْشَآءَاور بےحیائی
- اِنَّهٗبیشک وہ
- مِنْسے
- عِبَادِنَاہمارے بندے
- الْمُخْلَصِيْنَبرگزیدہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور عورت نے تو اس کا قصد کرلیتا اگر اس نے اپنے رب کی واضح نشانی نہ دیکھ لی ہوتی۔ ہم نے ایسا ہی کیا تاکہ ہم اس سے برائی اور بےحیائی کو دور رکھیں۔ بیشک وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ ۭ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ ۭ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ۔
" برہان رب " کا مفہوم : " برہان رب " سے مراد وہ نور یزدانی ہے جو اللہ تعالیٰ ہر انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرماتا ہے۔ جو خیر و شر میں امتیاز کا ذریعہ بھی ہے اور جو خیر پر ابھارتا بھی ہے اور برائی سے روکتا بھی ہے۔ یہ نور اللہ تعالیٰ بخشتا تو ہر ایک کو ہے لیکن سنت الٰہی یہ ہے کہ جو اس کی قدر کرتے اور اس کی رہنمائی قبول کرتے ہیں ان کے اندر تو یہ برابر قوی سے قوی تر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ اتنا قوی ہوجاتا ہے کہ نہایت سخت آزمائش کے مواقع پر بھی وہ انسان کو نفس اور شیطان کے فتنوں میں مبتلا ہونے سے بچالیتا ہے۔ برعکس اس کے جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے بلکہ برابر اس کی رہنمائی کو ٹھکراتے ہی رہتے ہیں ان کے اندر یہ آہستہ آہستہ، ضعیف ہوتے ہوتے بالکل بجھ جاتا ہے اور ان پر وہ سیاہی چھا جاتی ہے جو ان کو بصیرت سے بالکل ہی محروم اور اخلاقی اعتبار سے بالکل ہی اندھا بہرا بنا کر چھوڑ دیتی ہے۔ قرآن میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے۔ کلا بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون (ہر گز نہیں ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی سیاہی چھا گئی ہے)
باطن کا نور یزدانی : حضرت یوسف ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اس نور کی قدر کی۔ اس کا صلہ ان کو یہ ملا کہ اس نازک موقع پر، جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے، اس نور نے ان کو نفس اور شیطان کی تاریکی میں گھر جانے سے بچالیا۔ آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ جہاں تک عورت کا تعلق ہے وہ تو بالکل اندھی بہری ہو کر پیچھے پڑگئی تھی۔ حضرت یوسف بھی اس وقت آخر جوان تھے۔ غالباً 18، 20 سال کی عمر ہوگی، کیا عجب تھا کہ ان کے قدم بھی لڑکھڑا جاتے۔ لیکن نہیں ان کے اندر وہ نور یزدانی موجود تھا جس کی رہنمائی کو انہوں نے کبھی ٹھکرایا نہیں تھا۔ وہ اس موقع پر ان کے باطن میں چمکا اور دفعۃً آنکھوں کے سامنے سے ساری ظلمت کافور ہوگئی۔ فرمایا کذلک لنصرف عنہ السوء والفحشاء انہ من عبادنا المخلصین۔ یعنی چونکہ وہ ہمارے منتخب اور برگزیدہ بندوں میں سے تھا جس کو ہم نے اپنے کار خاص کے لیے منتخب کیا تھا اس وجہ سے ہم نے اس نازک موقع پر اپنی برہان سے اس کی رہنمائی فرمائ تاکہ اس کو برائی اور بےحیائی سے محفوظ رکھیں۔ " برہان " واضح دلیل اور مسکت حجت کو کہتے ہیں۔ اس دلیل سے زیادہ واضح اور مسکت دلیل اور کون ہوسکتی ہے جو خود اپنے باطن سے اذان دے !۔
عصمتِ انبیاء کے بعض پہلو۔ اس آیت سے عصمت انبیاء کے بعض پہلو بھی روشن ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو بعثت سے قبل بھی گناہوں کی آلودگی سے محفوظ رکھتا ہے۔ دوسرا یہ کہ نبی کے معصوم ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس سے گناہ کرنے کی قوت و صلاحیت سلب کرلی جاتی ہو بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ برابر اپنے نور فطرت کی نگرانی کرتے ہیں اس وجہ سے بالتدریج وہ اتنا قوی ہوجاتا ہے کہ سخت سے سخت آزمائش کے مواقع میں بھی وہ ان کو راہ سے بےراہ نہیں ہونے دیتا۔