Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 25

Tafseer
  1. وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿25﴾

    1. وَاسْتَبَقَااور دونوں دوڑے
    2. الْبَابَدروازہ
    3. وَقَدَّتْاور عورت نے پھاڑ دی
    4. قَمِيْصَهٗاس کی قمیص
    5. مِنْ دُبُرٍپیچھے سے
    6. وَّاَلْفَيَااور دونوں کو ملا
    7. سَيِّدَهَاعورت کا خاوند
    8. لَدَا الْبَابِدروازہ کے پاس
    9. قَالَتْوہ کہنے لگی
    10. مَا جَزَآءُکیا سزا
    11. مَنْجو۔ جس
    12. اَرَادَارادہ کیا
    13. بِاَهْلِكَتیری بیوی سے
    14. سُوْٓءًابرائی
    15. اِلَّآسوائے
    16. اَنْیہ کہ
    17. يُّسْجَنَقید کیا جائے
    18. اَوْیا
    19. عَذَابٌ اَلِيْمٌدردناک عذاب
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ دونوں دروازے کی طرف جھپٹے اور اس نے یوسف کا کرتا پیچھے سے پھاڑ دیا اور دونوں نے اس کے شوہر کو دروازے پر پایا۔ وہ بولی کہ جو تیری بیوی کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرے اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ قید خانہ میں ڈالا جائے یا وہ کوئی دردناک تکلیف بھگتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّاَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِ ۭ قَالَتْ مَا جَزَاۗءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْۗءًا اِلَّآ اَنْ يُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ اسباقت کے معنی ہیں دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرنا۔ عورت کا فریب : حضرت یوسف نے جب دیکھا کہ اس فتنہ سے جان بچانے کی کوئی شکل باقی نہیں رہی ہے تو وہ دروازے کی طرف جھپٹے کہ کھول کر باہر نکل جائیں۔ پیچھے سے عورت نے تعاقب۔ ان کو تو پکڑ نہ سکی البتہ ان کا کرتہ اس کے ہاتھ میں آگیا۔ اس کو جو زور سے اس نے کھینچا تو وہ پھٹ گیا اور ساتھ ہی یہ سانحہ پیش آیا کہ دروازہ جو کھلا تو دیکھا کہ شوہر دروازے سے لگا کھڑا ہے۔ اس کو دیکھتے ہی سارانشہ عشق ہرن ہوگیا۔ جھٹ بولی کہ تمہاری بیوی کے ساتھ جو برائی کا ارادہ کرے یا تو وہ جیل بھیجے جانے کا مستحق ہے یا یہ کہ اس کو کوئی دردناک سزا دی جائے۔ اس طرح اس نے شوہر کی نظروں میں اپنے کو بری اور حضرت یوسف کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی۔