Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 30

Tafseer
  1. وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿30﴾

    1. وَقَالَاور کہا
    2. نِسْوَةٌعورتیں
    3. فِي الْمَدِيْنَةِشہر میں
    4. امْرَاَتُ الْعَزِيْزِعزیز کی بیوی
    5. تُرَاوِدُپھسلا رہی ہے
    6. فَتٰىهَااپنا غلام
    7. عَنْسے
    8. نَّفْسِهٖاس کا نفس
    9. قَدْ شَغَفَهَاجگہ پکڑ گئی ہے
    10. حُبًّااس کی محبت
    11. اِنَّا لَنَرٰىهَابیشک ہم اسے دیکھتی ہیں
    12. فِيْمیں
    13. ضَلٰلٍگمراہی
    14. مُّبِيْنٍکھلی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور شہر میں کچھ عورتوں نے کہا کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام پر ڈورے ڈال رہی ہے۔ اس کے عشق میں دیوانی ہوگئی ہے۔ ہم تو کو کھلی حماقت میں مبتلا دیکھ رہے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِيْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۭ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔ " عزیز " کا مفہوم : عزیز کے معنی غالب اور مقتدر کے ہیں۔ یہ لفظ بادشاہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اونچے درجہ کے بااختیار و باقتدار افسروں اور عہدہ داروں کے لیے بھی۔ چونکہ یہ شخص شاہی باڈی گارڈ کا افسر اعلیٰ تھا اس وجہ سے عورتوں نے اس لیے " عزیز " کا لفظ استعمال کیا۔ شہر کی عورتوں میں چچا۔ حضرت یوسف کے ساتھ عزیز کی بیوی کے اس عشق کا چرچا آہستہ آہستہ افسانہ بزم و انجممن بن گیا۔ شہر کی کچھ عورتوں نے، جو ہوسکتا ہے اسی طبقہ کی رہی ہوں جس طبقہ کی عزیز کی بیوی تھی، یہ کہنا شروع کیا کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کے عشق میں دیوانی ہورہی ہے، اس پر ڈورے ڈال رہی ہے لیکن کچھ نہیں کر پا رہی ہے۔ ہم تو اس کو ایک صریح غلطی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں۔ ان کے اس آخری فقرے میں ملامت، شماتت اور ادعا کے بہت سے پہلو مضمر ہیں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اول تو یہی بات بڑی عجیب ہے کہ ایک اعلی عہدہ کدار کی بیگم ہو کر اپنے غلام کے پیچھے اپنے کو خوار کرے پھر اس سے بھی عجیب تر ماجرا یہ کہ اس کو بھی رام نہ کرسکے۔ یہیں سے اس ملامت کے اندر یہ مضمون بھی پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ عورت احمق ہے کہ بدنام بھی ہوئی اور نامراد بھی رہی، اگر کہیں ہم ہوتے تو ایک ہی عمزے میں یوسف کو ایسی پٹخنی دیتے کہ ان کی پارسائی کی ساری دھوم ختم ہوجاتی۔