تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 32
Tafseerقَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ﴿32﴾
- قَالَتْوہ بولی
- فَذٰلِكُنَّسو یہ وہی ہے
- الَّذِيْجو کہ
- لُمْتُنَّنِيْتم نے ملامت کی مجھے
- فِيْهِاس میں
- وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗاور میں نے اسے پھسلایا
- عَنْسے
- نَّفْسِهٖاس کا نفس
- فَاسْتَعْصَمَتو اس نے بچالیا
- وَلَئِنْاور اگر
- لَّمْ يَفْعَلْاس نے نہ کیا
- مَآجو
- اٰمُرُهٗمیں کہتی ہوں اسے
- لَيُسْجَنَنَّالبتہ قید کردیا جائیگا
- وَلَيَكُوْنًااور البتہ ہوجائے گا
- مِّنَسے
- الصّٰغِرِيْنَبےعزت (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ بولی کہ یہی ہے وہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کر رہی تھیں۔ بیشک میں نے اس پر ڈورے ڈالے لیکن یہ بچ رہا، اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے کہہ رہی ہوں تو وہ ضرور قید ہوجائے گا اور ذلیل ہوگا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ ۭ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ ۭ وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْن۔
زلیخا کی دھمکی : ان عورتوں کی شکست سے زلیخا کے دل سے اپنی شکست کا غم جاتا رہا۔ اس نے بڑے تیکھے انداز میں ان عورتوں سے کہا کہ یہی ہے وہ جس کے بارے میں تم نے مجھے طعن و طنز کا نشانہ بنا لیا تھا۔ اب تو تمہیں اندازہ ہوا کہ اس کو جیتنا کوئی آسان کام نہیں تھا ! اس میں شبہ نہیں کہ میں نے اس کا دل مٹھی میں لینے کی پوری کوشش کی لیکن یہ اپنے کو بچالے گیا۔ لیکن صاف کہے دیتی ہوں کہ اگر اس نے میرا کہا نہ کیا تو لازماً جیل جائے گا اور ذلیل ہوگا۔ مطلب یہ کہ اگر میں محبت سے اسے رام نہ کرسکی تو یہ نہ سمجھے کہ اس کی جان چھوٹ گئی۔ اب جیل کی ہوا کھائے گا اور ذلیل ہوگا۔ یہاں سے حضرت یوسف کی آزمائ ایک نئی شکل اختیار کرتی ہے۔ ہوس کی محبت اپنی ناکامی کا انتقام لینے پر آمادہ ہوتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں غلاموں پر ان کے آقاؤں کو غیر محدود اختیار حاصل تھے۔ وہ ان سے ناراض ہونے کی صورت میں بےتکلف ان کو جیل بھجوا سکتے تھے۔ پھر یہاں تو معاملہ ایک اعلی سرکاری عہدہ دار کی بیگم صاحبہ کا تھا۔ کس کی مجال تھی کہ ان کے ارادے میں مزاحم ہوسکے۔