تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 34
Tafseerفَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿34﴾
- فَاسْتَجَابَسو قبول کرلی
- لَهٗاس کی (دعا)
- رَبُّهٗاس کا رب
- فَصَرَفَپس پھیر دیا
- عَنْهُ كَيْدَهُنَّان کا فریب
- اِنَّهٗبیشک وہ
- هُوَوہ
- السَّمِيْعُسننے والا
- الْعَلِيْمُجاننے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی اور ان کے چرتر کو اس سے دفع کردیا۔ بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔
دعا کی قبولیت : حضرت یوسف کی زبان سے یہ دعا اس وقت نکلی ہے جب وہ اپنی پوری طاقت اپنے ایمان و اخلاق کی حفاظت کے لیے نچوڑ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ان بیگمات کی پیدا کی ہوئی پرفتن زندگی کے مقابل میں جیل کی پر محن زندگی کو قبول کرنے پر راضی ہیں۔ جب بندہ اس حد تک اپنی استقامت دکھا دینے کے بعد اپنے آپ کو اپنے رب کے آگے ڈال دیتا ہے اور اس سے مدد مانگتا ہے تو اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور فوراً قبول ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت یوسف کی دعا بھی قبول ہوئی اور شیطان کے ان نسوانی پھندوں سے انہوں نے نجات پائی۔ انہ ھو السمیع العلیم۔ خدا سمیع وعلیم ہے۔ وہ بندے کی دعائیں اور فریادیں سنتا اور دلوں کے احوال اور اسرار سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔