Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 35

Tafseer
  1. ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ع﴿35﴾

    1. ثُمَّپھر
    2. بَدَا لَهُمْانہیں سوجھا
    3. مِّنْۢ بَعْدِاس کے بعد
    4. مَا رَاَوُاجب انہوں نے دیکھیں
    5. الْاٰيٰتِنشانیاں
    6. لَيَسْجُنُنَّهٗاسے ضرور قید میں ڈالیں
    7. حَتّٰي حِيْنٍایک مدت تک
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد انہیں مصلحت یہی معلوم ہوئی کہ اس کو کچھ مدت کے لیے قید کردیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آگے کا مضمون۔ آیات 35 تا 53:۔ حضرت یوسف کی آزمائش کا نیا دور : یہاں سے حضرت یوسف کی آزمائش کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اگرچہ عزیز بھی اور زلیخا کے عزیزوں اور رشتہ داروں پر بھی اصل حقیقت پوری طرح واضح تھی لیکن انہوں نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ کچھ دنوں کے لیے حضرت یوسف کو جیل بھجوا دیں۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ اس طرح لوگوں کی زبانیں بھی کچھ عرصہ کے بعد بند ہوجائیں گی اور نگاہوں سے دور ہوجانے کے سبب سے زلیخا کا خبط بھی جاتا رہے گا۔ جیل میں حضرت یوسف کے دو ساتھی خواب دیکھتے ہیں۔ وہ خواب کی تعبیر حضرت یوسف سے پوچھتے ہیں۔ حضرت یوسف اس خواب کی تعبیر بتانے کی راہ کھلتی ہے جس کے بعد بادشاہ ان کا ایسا گرویدہ ہوجاتا ہے کہ ملک کے تمام سفید و سیاہ کا ان کو مالک بنا دیتا ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے : ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰيٰتِ لَيَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰي حِيْن۔ قید و بند کی آزمائش کا دور : " آیات " سے مراد یہاں حضرت یوسف کی براءت و بےگناہی کے دلائل و شواہد ہیں۔ یعنی عزیزی اور اس کے رشتہ داروں پر اگرچہ یہ حقیقت واضح ہوچکی تھی کہ یوسف بالکل بےگناہ ہیں، سارا قصور زلیخا ہی کا ہے، لیکن اپنی ناک بچانے کے لیے انہیں مصلحت اسی میں نظر آئی کہ کچھ عرصہ کے لیے حضرت یوسف کو جیل بھجوا دیں۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ اس طرح کچھ مدت کے بعد زلیخا کے دماغ سے یوسف کا خبط بھی نکل جائے گا اور جو لوگ اس قصہ سے دل چسپی لے رہے ہیں ان کی توجہ بھی ہٹ جائے گی۔ لوگ خیال کریں گے قصور زلیخا نہیں بلکہ یوسف ہی کا تھا چناچہ اسی کو سزا ملی۔ اس زمانے میں مالکوں کو اپنے غلاموں پر جو غیر محدود اختیارات حاصل تھے ان کی موجودگی میں عزیز کے لیے حضرت یوسف کو جیل بھجوا دینے میں اول تو کوئی زحمت رہی نہیں ہوگی اور اگر کچھ رہی بھی ہوگی تو ایک سرکاری عہدہ دار کے لیے، جو شاہی باڈی گارڈ کا افسر تھا، اس قسم کی کسی زحمت کو دور کرلینا کیا مشکل تھا۔ الغرض یہاں سے حضرت یوسف کی آزمائش کا نیا دور شروع ہوگیا۔ یوں عام نگاہ میں تو آزائش کا اصلی دور یہی ہے لیکن حضرت یوسف کی نگاہ میں چونکہ اصلی اہمیت اپنے ایمان و اخلاق کی تھی اس وجہ سے انہوں نے پچھلے دور کے مقابل میں، جیسا کہ آپ نے دیکھا، نہ صرف یہ کہ اس کی تمنا کی بلکہ اس کے لیے دعا بھی کی۔
Tadabbur-e-Quran - 12 : 35