Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 37

Tafseer
  1. قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿37﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. لَا يَاْتِيْكُمَاتمہارے پاس نہیں آئیگا
    3. طَعَامٌکھانا
    4. تُرْزَقٰنِهٖٓجو تمہیں دیا جاتا ہے
    5. اِلَّامگر
    6. نَبَّاْتُكُمَامیں تمہیں بتلا دوں گا
    7. بِتَاْوِيْلِهٖاس کی تعبیر
    8. قَبْلَقبل
    9. اَنْکہ
    10. يَّاْتِيَكُمَاوہ آئے تمہارے پاس
    11. ذٰلِكُمَایہ
    12. مِمَّااس سے جو
    13. عَلَّمَنِيْمجھے سکھایا
    14. رَبِّيْمیرا رب
    15. اِنِّىْبیشک میں
    16. تَرَكْتُمیں نے چھوڑا
    17. مِلَّةَدین
    18. قَوْمٍوہ قوم
    19. لَّا يُؤْمِنُوْنَوہ ایمان نہیں لاتے
    20. بِاللّٰهِاللہ پر
    21. وَهُمْاور وہ
    22. بِالْاٰخِرَةِآخرت سے
    23. هُمْوہ
    24. كٰفِرُوْنَانکار کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا جو کھانا تمہیں ملتا ہے وہ آئے گا نہیں کہ میں اس کے آنے سے پہلے پہلے تمہیں اس کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے۔ میں نے ان لوگوں کے مذہب کو چھوڑا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے یہی لوگ منکر ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْـلِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَا ۭ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ ۭ اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ۔ خواب کی تعبیر اور دین کی دعوت : حضرت یوسف نے فرمایا کہ کھانا تقسیم ہونے سے پہلے پہلے میں تم کو ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ جیل بالخصوص اس زمانے کی جیل کی افسردہ اور ایک رنگ زندگی میں کھانے کی تقسیم وغیرہ جیسے ایک آدھ واقعے ہی ایسے ہوسکتے ہیں جو زندگی میں ذرا تغیر کی علامت سمجھے جاتے ہوں گے اس وجہ سے حضرت یوسف نے اسی کا حوالہ دے کر خوابوں کی تعبیر کے معاملے کو کچھ وقت کے لیے ٹال دیا۔ اس کا اثر تعبیر پوچھنے والوں پر تو یہ پڑا ہوگا کہ حضرت یوسف نے ان کے خوابوں کو اہمیت دی ہے۔ وہ سرسری طور پر الٹی سیدھی کوئی بات بتا کر ان کو ٹالنا نہیں چاہتے بلکہ سوچ کر یا اپنے رب سے رجوع کرنے کے بعد ان کی تعبیر بتائیں گے اور ادھر کود حضرت یوسف نے اس التوا سے اس حق کی تبلیغ کے لیے ایک ناہتی اچھا موقع پیدا کرلیا جو ان کی زندگی کا سب سے زیادہ محبوب مقصد بن چکا تھا۔ انہوں نے جب دو دلوں کو اپنی طرف مائل دیکھا تو صرف ان کی اندھی بہری عقیدت ہی پر قانع نہیں ہوگئے بلکہ چاہا کہ ان کو اللہ کی بندگی کی وہ دعوت پہنچا دیں جو اگر وہ قبول کرلیں تو ان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں۔ چانچنہ انہوں نے پہلی بات تو یہ فرمائی کہ " ذلک مما علمنی ربی " یہ خوابوں کی تعبیر کا علم ان علموں میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائے ہیں۔ مقصد یہ کہ اگر اس علم کو تم قدرو قیمت کی چیز سمجھتے ہو تو یہ یاد رکھو کہ اس کا منبع اور سرچشمہ میں نہیں ہوں بلکہ میرا رب ہے۔ اس نے مجھے جو علم بخشے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ " انی ترکت ملۃ قوم لایومنون باللہ " یعنی مجھ پر میرے رب کا یہ فضل جو ہوا تو اس وجہ سے ہوا کہ میں نے ان لوگوں کے مذہب کو چھوڑا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے۔ تیسری بات یہ فرمائی " ھم بالآخرۃ ھم کفرون " یعنی یہی لوگ ہیں جو آخرت کے منکر ہیں اس لیے کہ جو لوگ سرے سے خدا ہی پر ایمان نہیں رکھتے ان کے آخرت کو ماننے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ جوں ہی حضرت یوسف نے محسوس فرمایا کہ ان نوجوانوں کے دلوں میں کچھ صلاحیت ہے انہوں نے دین کی تمام بنیادی باتوں کی ان کے اندر تخم ریزی کردی اور ساتھ ہی یہ تاثر بھی ان کو دے دیا کہ اگر یہ راہ اختیار کرنے کا حوصلہ ہے تو اس کے لیے ان لوگوں کی ملت چھوڑنی پڑے گی جو خدا اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ حضرت یوسف کا یہ ارشاد کہ " میں نے ان لوگوں کی ملت کو چھوڑا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، اس حقیقت کا اظہار ہے کہ انہوں نے اپنے باطن میں اچھی طرح تجزیہ اور تنقید کرکے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا معین کرلیا اور حق کو جو اختیار کیا ہے تو مجرد اس لیے نہیں کہ میراث آباء ہے بلکہ اس لیے کیا ہے کہ وہی اختیار کرنے کی چیز ہے، اسی طرح اگر باطل کو چھوڑا ہے تو اس سوجہ سے چھوڑا ہے کہ اس کا باطل ہونا پوری طرح واضح ہوچکا ہے۔