Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 38

  1. وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ﴿38﴾

    1. وَاتَّبَعْتُاور میں نے پیروی کی
    2. مِلَّةَدین
    3. اٰبَآءِيْٓاپنے باپ دادا
    4. اِبْرٰهِيْمَابراہیم
    5. وَاِسْحٰقَاور اسحق
    6. وَيَعْقُوْبَاور یعقوب
    7. مَا كَانَنہیں ہے
    8. لَنَآہمارے لیے
    9. اَنْکہ
    10. نُّشْرِكَہم شریک ٹھہرائیں
    11. بِاللّٰهِاللہ کا
    12. مِنْ شَيْءٍکوئی کسی شے
    13. ذٰلِكَیہ
    14. مِنْسے
    15. فَضْلِ اللّٰهِاللہ کا فضل
    16. عَلَيْنَاہم پر
    17. وَاور
    18. عَلَي النَّاسِلوگوں پر
    19. وَلٰكِنَّاور لیکن
    20. اَكْثَرَاکثر
    21. النَّاسِلوگ
    22. لَا يَشْكُرُوْنَشکر ادا نہیں کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور میں نے اپنے بزرگوں، ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب کی پیروی کی۔ ہمیں حق نہیں کہ ہم کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں۔ یہ اللہ کا ہم پر اور لوگوں پر فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہوتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ پر ایمان نہ رکھنے والوں کی ملت کو چھوڑ کر جس ملت کو انہوں نے اختیار فرمایا، یہ اس کا بیان ہے۔ اس پورے سلسلۃ الذہب کی وضاحت اس وجہ سے ضروری تھی کہ مخاطب کہیں اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں کہ حضرت یوسف جس ملت کی ان کو دعوت دے رہے ہیں یہ ان کی کوئی نو ایجاد ملت ہے بلکہ ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ یہ وہی ملت ہے جس کو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) جیسے اکابر و مشاہیر نے اختیار فرمایا۔ ان اکابر کے نام تمام اطراف و دیار میں پھیلے ہوئے تھے اور عجب نہیں کہ حضرت یوسف کے یہ زندان کے ساتھ بھی ان ناموں سے آشنا رہے ہوں۔ ملت توحید کی تاریخی و فطری عظمت : مَا كَانَ لَنَآ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ، ملت توحید کی تاریخی عظمت و اہمیت واضح کرنے کے بعد یہ حضرت یوسف نے اس کی فطری اور عقلی عظمت واضح فرمائی ہے کہ یہ حقیقت تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ایک خالق ہے جس نے یہ دنیا بنائی ہے، جس نے ہم کو زندگی بخشی ہے، جو رزق دیتا ہے اور جس کے اختیار میں ہماری زندگی اور موت ہے لیکن اس بات کی ہمارے سامنے کوئی ادنی شہادت بھی موجود نہیں ہے کہ کوئی اور بھی ان کاموں میں اس کا شریک وسہیم ہے۔ تو جب اس چیز کی کوئی ادنی شہادت ہمارے پاس موجود نہیں ہے، نہ ہماری عقل میں، نہ ہماری فطرت میں، نہ آفاتق میں، نہ انفس میں تو ہمیں یہ کس طرح حق پہنچتا ہے کہ ہم خواہ مخواہ کسی چیز کو اس کی خدائی میں شریک اور حصہ دار بنا کے رکھ دیں۔