تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 39
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ﴿39﴾
- يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِاے میرے قید کے ساتھیو !
- ءَاَرْبَابٌکیا کئی معبود
- مُّتَفَرِّقُوْنَجدا جدا
- خَيْرٌبہتر
- اَمِ اللّٰهُیا اللہ
- الْوَاحِدُایک، یکتا
- الْقَهَّارُزبردست۔ غالب
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! کیا الگ الگ بہت سے رب بہتر ہیں، یا اکیلا اللہ ہی سب پر حاوی و غالب ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
39۔ 40:۔ يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ۔ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔
دعوت توحید : " یصاحبی السجن " کے خطاب میں جو بلاغت اور دل نوازی ہے وہ بالکل واضح ہے۔ بسا اوقات مصیبت کا اشتراک بھی شرکائے مصیبت کے دلوں میں ہمدردی، محبت، اخلاص اور باہمی خیر خواہی و خیرسگالی کے جذبات نہایت زور و قوت سے ابھار دیتا ہے۔ حضرت یوسف نے اس خطاب سے اپنے ان ستاھیوں کے انہی جذبات کو ابھارا ہے تاکہ وہ ان کی طرف متوجہ ہوں اور ان کی وہ بات جو سرتاسر انہی کے نفع کے لیے ہے، گوش دل سے سنیں۔ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ، لفظ قہار پر ہم دوسرے مقام میں بحث کرکے بتا چکے ہیں کہ اس کا صحیح مفہوم وہ ہے جو لفظ کنٹرولر کا ہے یعنی سب پر حاوی اور غالب جس کے حیطہ اقتدار سے نہ کوئی باہر ہو، نہ باہر نکل سکے۔ مطلب یہ کہ جہاں تک ایک خدا کا تعلق وہ تو ایک بدیہی حقیقت بلکہ ابدہ البدیہیات ہے۔ مشرک اور موحد سب اس کو مانتے ہیں۔ اب رہا یہ سوال کہ اس کے سوا اور بھی کچھ اس کے شریک ہیں تو یہ چیز نہایت مضبوط دلیل کی محتاج ہے۔ اگر اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے تو مجرد خواہش کی بنا پر کسی کو اپنے اوپر خدا بنا کر مسلط کرلینا کہاں کی دانشمندی ہے ؟ ایک غلام کے سامنے اگر یہ سوال رکھا جائے کہ اسے بیک وقت ایک آقا کی غلامی پسند ہے یا کئی آقاؤں کی تو وہ متعدد آقاؤں کے مقابل میں ایک ہی آقا کی غلامی کو ترجیح دے گا۔ یہی انسان کی فطرت ہے۔ اسے اپنے اوپر کسی کو خدا بنا کر مسلط کرنے کا شوق نہیں ہے، وہ ایک خدا کو تو اس لیے مانتا ہے کہ اس کے ماننے پر اس کی عقل اور فطرت اس کو مجبور کرتی ہے۔ اس کے سوا دوسروں کو ماننے کے لیے کیا مجبوری ہے کہ وہ خواہ مخواہ ان کی غلامی کا پٹآ بھی اپنی گردن میں ڈال لے۔ انسانی فطرت کی اسی حقیقت کی طرف قرآن نے سورة زمر کی اس تمثیل میں اشارہ فرمایا ہے۔ ضرب اللہ مثلا رجلا فیہ شرکاء متشاکسون و رجلا سلما لرجل۔ ھل یستویان مثلا : اور اللہ تمثیل بیان کرتا ہے ایک ایسے غلام کی جس میں متعدد مختلف الاغراض شرکاء شریک ہیں اور ایک ایسے غلام کی جو پورا کا پورا ایک ہی آقا کی ملکیت ہے۔ کیا دونوں کی حیثیت ایک جیسی ہوگی)۔ یہاں قہار کی صفت سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ جب خدا قہار بھی ہے یعنی سب پر حاوی و غالب اور یہ اس کی صفات کا لازمی تقاضا بھی ہے تو آخر وہ ضرورت کیا ہے جس کے لیے دوسروں کو اس کی خدائی میں شریک کیا جائے۔
مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً۔۔۔ الایۃ۔ یعنی یہ جن کو تم پوج رہے ہو یہ محض تمہارے وہم کے ایجاد کیے ہوئے نام ہیں، ان ناموں کا کوئی مسمی موجود نہیں ہے۔ تمہارے باپ دادا جس لکیر کو پیٹتے آئے اسی لکیر کو بےسمجھے تم بھی پیٹ رہے ہو۔ خدا نے تمہارے ان فرضی دیویوں اور دیوتاؤں کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم اور فیصلہ، امر اور قضا سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور اس نے صرف اپنی عبادت کا حکم دیا ہے اور یہی سیدھا، مستقیم اور فطری دین ہے۔ اس کے علاوہ جتنے بھی طریقے ہیں سب فطرتِ انسانی سے ہٹے ہوئے اور انسان کو کج پیچ کی راہوں میں گم کرنے والے ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اپنی شامت اعمال سے اس حقیقت سے بیخبر ہے۔