تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 47
قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ﴿47﴾
- قَالَاس نے کہا
- تَزْرَعُوْنَکھیتی باڑی کروگے
- سَبْعَسات
- سِنِيْنَسال
- دَاَبًالگاتار
- فَمَاپھر جو
- حَصَدْتُّمْتم کاٹو
- فَذَرُوْهُتو اسے چھوڑ دو
- فِيْ سُنْۢبُلِهٖٓاس کے خوشہ میں
- اِلَّامگر
- قَلِيْلًاتھوڑا جتنا
- مِّمَّاسے۔ جو
- تَاْكُلُوْنَتم کھالو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا تم سات سال برابر کاشت کروگے۔ پس جو فصل کاٹو، اس قلیل مقدار کے سوا جو تم کھاؤ اس کی بالیوں میں چھوڑ دیا کرو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
47۔ 49:۔ قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِيْ سُنْۢبُلِهٖٓ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ۔ ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ۔ ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيْهِ يَعْصِرُوْنَ۔
" تزرعون " ہے تو خبر اسلوب میں لیکن ہے یہ امر کے مفہوم میں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ بتا چکے ہیں کہ جب موقع و محل رہنمائی، مشورہ اور ہدایت دینے کا ہو تو ایسے مواقع میں امر کی بجائے خبر کا اسلوب ہی موزوں رہتا ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں بہت ہیں۔
خواب کی تعبیر : یہ حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر بھی بتا دی اور ساتھ ہی اس سات سالہ ہولناک قحط کے مقابلہ تدبیر کی طرف بھی رہنمائی فرما دی جس کی اس خواب نے خبر دی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ سات سال مسلسل کاشت کرتے جاؤ تو جو فصل کاٹو اس میں سے غذائی ضرورت کے بقدر الگ کرکے صاف کردو بقیہ سارا غلہ اس کی بالیوں میں چھوڑتے جاؤ تاکہ وہ محفوظ رہے۔ یہ بات یہاں ذہن میں رکھنے کی ہے کہ دانے جب بھس اور بالیوں کے اندر رہتے ہیں دیمک، سرسری اور کیڑوں مکوڑوں کی آفت سے بچے رہتے ہیں۔
اس کے بعد خواب کے دوسرے حصے کی تعبیر یہ بتائی کہ سات سال متوتر نہایت سخت قحط کے آئیں گے جو اس سارے ذخیرے کو چٹ کرجائیں گے جو تم قحط کے مقابلے کے لیے جمع کروگے۔ اس محفوظ ذخیرے میں سے بہت تھوڑا حصہ تم بچا پاؤگے۔ ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا جس میں لوگوں کی فریاد رسی ہوگی یعنی لوگوں کی چیخ و پکار اور دعا و فریاد کی خدا کے ہاں شنوائی ہوگی، اس کا ابر کرم برسے گا، انگوروں کی فصل خوب بار آور ہوگی اور لوگ خوب انگور نچوڑیں گے۔
" یغاث " کا مطلب بعض لوگوں نے بارش بھی لیا ہے لیکن میرے نزدیک بارش اس کا لغوی مفہوم نہیں ہے البتہ اس کے لازم معنی کی حیثیت سے اس کو اس کے مفہوم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ لفظ کو اس کے لغوی مفہوم میں لینے کا ایک کھلا ہوا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ہمہ گیر اثر کی پوری تصویر سامنے آجاتی ہے کہ سارے ہی لو اس کے اثر سے چیخ اٹھیں گے اور ہر شخص اپنے رب کے آگے روئے اور گڑگڑائے گا۔ یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ جب حقیقی معنوں میں کوئی سخت وقت آپڑتا تو، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، کٹر سے کٹر کافر و مشرک بھی اکیلے خدا ہی کو پکارتے ہیں، اپنے دوسرے فرضی دیویوں اور دیوتاؤں کو بھول جاتے ہیں۔ پھر یہ زمانہ قحط تو، جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی۔ پورا کا پورا اہل مصر نے حضرت یوسف کی رہنمائی میں گزارا ہے جس میں بادشاہ سے لے کر عوام تک سب ان کے گرویدہ، تابع فرمان اور معتقد رہے ہیں۔
" یعصرون " کے لفظ سے بھی مقصود اس کے لازم کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ یعنی خوب بارش ہوگی۔ انگور کی بیلیں خوب پھلیں پھولیں گی، لوگ خوب انگور نچوڑیں گے۔ ساتھ ہی اس میں ایک لطیف تلمیح بھی پیدا ہوگئی ہے۔ وہ یہ کہ پوچھنے والا جیسا کہ اوپر گزرا ہے، بادشاہ کا خاص ساقی تھا۔ اس مناسبت سے " یعصرون " کے لفظ نے کلام میں ایک خاص لطف پیدا کردیا ہے جو اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے۔