Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 52

  1. ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ﴿52﴾

    1. ذٰلِكَیہ
    2. لِيَعْلَمَتاکہ وہ جان لے
    3. اَنِّىْبیشک میں
    4. لَمْ اَخُنْهُنہیں اس کی خیانت کی
    5. بِالْغَيْبِپیٹھ پیچھے
    6. وَاَنَّ اللّٰهَاور بیشک اللہ
    7. لَايَهْدِيْنہیں چلنے دیتا
    8. كَيْدَفریب
    9. الْخَآئِنِيْنَدغا باز (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس سے بےوفائی نہیں کی اور بیشک اللہ خائنوں کی چال کو چلنے نہیں دیتا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
52۔ 53:۔ ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ۔ وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ تحقیقات کے مطالبہ کی وجہ : اپنا دامن بےداغ ثابت ہوجانے کے بعد یہ حضرت یوسف نے اس بات کی وجہ بھی بتا دی کہ انہوں نے اس قضیہ کو ازسر نو چھیڑنا کیوں ضروری سمجھا جب کہ بادشاہ اس معاملے کو زیر بحث ائے بغیر ان کو رہا کر رہا تھا۔ فرمایا کہ ایسا میں نے اس لیے کیا کہ بادشاہ پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ مجھے بالکل بےگناہ جیل میں ڈالا گیا تھا۔ میں عزیز کے ساتھ اس کی پیٹھ پیچھے کوئی بےوفائی نہیں کی تھی اور یہ حقیقت بھی اچھی طرح واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ خائنوں اور بےوفاؤں کی چال کو کامیاب و بامراد نہیں کرتا بلکہ بالآخر وہ نامراد ہوتے ہیں اور جو لوگ سچائی اور وفاداری پر استوار رہتے ہیں وہی سرخرو اور بامراد ہوتے ہیں۔ ہمارے نزدیک " لیعلم " کی ضمیر کا مرجع بادشاہ ہے۔ جس کا ذکر اوپر کی آیات میں نہایت واضح الفاظ میں ہوا ہے اور اخنہ کی ضمیر کا مرجع عزیز ہے جس کے لیے واضح قرینہ موجود ہے۔ اگر قرائن موجود ہوں تو ضمیوں میں اس قسم کا انتشار کوئی عیب نہیں ہے۔ اس کے بعد حضرت یوسف نے یہ حقیقت بھی واضح فرمادی کہ کوئی میرے اس رویہ سے اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ اپنے نفس کو میں گناہوں سے بالاتر سمجھتا ہوں۔ نفس میرے ساتھ بھی ہے اور وہ برائی کے لیے وسوسہ اندازیاں بھی کرتا رہتا ہے۔ اس کے فتنوں سے محفوظ تو آدمی اسی وقت تک رہتا ہے جب تک خدا کی رحمت اور اس کا فضل شامل حال رہے۔ سو میں اگر فتنوں سے محفوظ رہا تو اس وجہ سے نہیں کہ میں اپنے اندر نفس نہیں رکھتا تھا بلکہ صرف اس وجہ سے محفوظ رہا کہ میرے رب کی رحمت و عنایت نے میری دست گیری فرمائی۔ میرا رب بخشنے وال اور مہربان ہے۔ " الا ما رحم ربی " میں " ما " ہمارے نزدیک ظرفیہ ہے۔ ایک سنّت الٰہی : یہاں یہ سنت الٰہی یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی الہام فرما کر اس کو اختیار دیا ہے کہ وہ بدی کی راہ اختیار کرے یا نیکی کی۔ اگر وہ نیکی کی راہ اختیار کرتا ہے اور اس راہ میں پیش آنے والی آزمائشوں کا پامردی سے مقابلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحمت و عنایت سے متوجہ ہوتا ہے اور ان کی راہ کو آسان کردیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے اور اگر کوئی شخص نیکی کی راہ چھوڑ کر بدی کی راہ اختیار کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اسی راہ میں بڑھنے کے لیے ڈھیل دے دیتا ہے۔ حضرت یوسف نے نفس کے اعلی اعیات کو اختیار فرمایا اور اس راہ کی تمام مزاحمتوں کا پوری پامردی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ یہاں تک کہ نفس کے سفلی داعیات ان کے آگے سپر ادناز ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مرتبۂ بلند کی سرفرازی بخشی جو ان کے لیے مقدر تھا۔