Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 51

  1. قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿51﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. مَا خَطْبُكُنَّکیا حال تھا تمہارا
    3. اِذْجب
    4. رَاوَدْتُّنَّتم نے پھسلایا
    5. يُوْسُفَیوسف
    6. عَنْسے
    7. نَّفْسِهٖاس کا نفس
    8. قُلْنَوہ بولیں
    9. حَاشَپناہ
    10. لِلّٰهِاللہ کی
    11. مَانہیں
    12. عَلِمْنَاہم نے معلوم کی
    13. عَلَيْهِاس پر (میں)
    14. مِنْ سُوْٓءٍکوئی برائی
    15. قَالَتِبولی
    16. امْرَاَتُعورت
    17. الْعَزِيْزِعزیز
    18. الْئٰنَاب
    19. حَصْحَصَظاہر ہوگئی
    20. الْحَقُّحقیقت
    21. اَنَامیں
    22. رَاوَدْتُّهٗاسے پھسلایا میں نے
    23. عَنْسے
    24. نَّفْسِهٖاس کا نفس
    25. وَاِنَّهٗاور وہ بیشک
    26. لَمِنَالبتہ۔ سے
    27. الصّٰدِقِيْنَسچے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے پوچھا، تمہار کیا ماجرا ہے جب تم نے یوسف کو پھسلانے کی کوشش کی ؟ وہ بولیں کہ حاشا للہ ہم نے اس پر برائی کا کوئی بھی نقش نہیں پایا۔ عزیز کی بیوی بولی اب حق آشکارا ہوگیا۔ میں نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی۔ اور بیشک وہ راست بازوں میں سے ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ عورتوں کے واقعہ کی تحقیق : یہاں بھی قرینہ کی وضاحت کی بنا پر اتنا حصہ محذوف ہے کہ قاصد نے حضرت یوسف کی بات بادشاہ کو پہنچا دی۔ چناچہ بادشاہ نے ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا ماجرا ہے جب کہ تم نے یوسف کو پھسلانے کی کوشش کی ؟ بادشاہ کے سوال کے الفاظ یہ سب بات بالکل واضح ہے کہ کم از کم اس مرحلے میں اس پر یہ حقیقت بالکل واضح ہوچکی تھی کہ یہ سارا چھل فریب ان عورتوں ہی کا تھا، یوسف اس معاملے میں بالکل بےقصور تھے۔ اگر بادشاہ پر یہ حقیقت واضح نہ ہوتی تو سوال کا انداز اس سے مختلف ہوتا۔ یعنی وہ یوں پوچھتا کہ یہ کیا واقعہ ہے جو یوسف کے ساتھ تمہیں پیش آیا ؟ اصل یہ ہے کہ سچائی اپنے ظہور کے لیے صبر کا مطالبہ کرتی ہے۔ اگر کوئی اللہ کا بندہ اس کو اختیار کرلے اور جو صبر اس کے لیے مطلوب ہے اس کا حق ادا کردے تو وہ وقت لازماً آتا ہے جب اس کی صداقت کی صدائے باز گشت درودیوار سے سنائی دیتی ہے۔ یہاں تک کہ دشمن بھی جیسا کہ آپ دیکھیں گے، اس کی گواہی دیتے ہیں۔ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ۔ حاشا اور حاش، استثنا اور تنزیہہ کے کلمے ہیں و اس وقت بولے جاتے ہیں جب کسی کو کسی الزام یا تہمت سے بری ثابت کرنا ہو۔ عورتوں کا اعتراف حق : ہم اوپر یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ حضرت یوسف کے عظیم صبر نے حالات کا رخ اس طرح بدل دیا تھا کہ کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں رہ گیا تھا کہ وہ ان کے خلاف کچھ کہہ سکے۔ چناچہ ان عورتوں نے بھی نہایت کھلے دل سے اعتراف کیا کہ ہم نے اچھی طرح ٹٹول کر دیکھا لیکن ان پر برائی کا کوئی نقش نہیں پایا اور خود عزیز کی بیوی، جس نے یہ سارا فتنہ اٹھایا تھا، اعتراف حق میں ان عورتوں سے بھی آگے نکل گئی۔ اس نے کہا، اب تو حق پوری طرح آشکارا ہو ہی گیا، اب چھپانے سے کیا حاصل، اصل یہ ہے کہ میں نے ہی ان پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی لیکن یہ بالکل محفوظ رہے۔ بلاشبہ یہ راست بازوں میں سے ہیں۔