Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 70

  1. فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ﴿70﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. جَهَّزَهُمْانہیں تیار کردیا
    3. بِجَهَازِهِمْان کا سامان
    4. جَعَلَرکھ دیا
    5. السِّقَايَةَپینے کا پیالہ
    6. فِيْمیں
    7. رَحْلِسامان
    8. اَخِيْهِاپنا بھائی
    9. ثُمَّپھر
    10. اَذَّنَاعلان کیا
    11. مُؤَذِّنٌمنادی کرنیوالا
    12. اَيَّتُهَا الْعِيْرُاے قافلے والو
    13. اِنَّكُمْبیشک تم
    14. لَسٰرِقُوْنَالبتہ چور ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب ان کا سامان تیار کرادیا کٹورا اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھوادیا۔ پھر ایک منادی نے آواز دی کہ اے قافلہ والو تم لوگ چور ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفیسر آیات 70۔ تا 76:۔ فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَقَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ۔ قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَاۗؤُهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ۔ قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ۔ فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاۗءِ اَخِيْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَاۗءِ اَخِيْهِ ۭ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ ۭ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ۭ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ۔ بھائی کو روکنے کے لیے حضرت کی تدبیر : جب ان کا سارا سامان ٹھیک ٹھاک کرا دیا تو پانی پینے کا کٹورا، جو غلہ ناپنے کے لیے شاہی پیمانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا، وہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھوا دیا، پھر ایک منادی نے پکارا کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ وہ جھپٹ کے ان کی طرف مڑے اور پوچھا کہ آپ لوگوں کی کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ شاہی پیمانہ کھویا گیا ہے تو جو اس کو لائے گا اس کو ایک بار شتر غلہ انعام ملے گا اور میں اس کا ضامن ہوں۔ انہوں نے قسم کھا کر جواب دیا کہ آپ لوگوں کو اچھی طرح علم ہے کہ ہم اس ملک میں فساد برپا کرنے نہیں آئے اور ہم چوری کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر تم لوگ جھوٹے ثابت ہوئے تو اس کی کیا سزا ہے ؟ انہوں نے کہ جس کے سامان میں کٹورا ملے وہی اس کے بدلہ میں روک لیا جائے۔۔ ہم ایسے ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت یوسف نے ان کے سامان کی تلاشی لی اور تلاشی کا آغاز اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے ان کے تھیلوں سے کیا اور آخر میں اپنے بھائی کے تھیلے سے پیمانہ کو برآمد کرلیا۔ حضرت یوسف کی اس تدبیر کی بابت اللہ کا ارشاد یہ ہے کہ یہ تدبیر یوسف کے لیے ہم نے کی۔ بادشاہ کے قانون کی رو سے وہ اپنے بھائی کو روکنے کے مجاز نہ تھے الا آنکہ اللہ چاہے۔ فرمایا کہ ہم جس کے چاہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں اور ہر صاحب علم سے بڑھ کر ایک علم والا ہے۔ حضرت یوسف ؑ کے طرز عمل پر شبہات کا ازالہ : مذکورہ بالا آیات کا یہ خلاصہ مطلب ہے جو ہم نے اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہے۔ اب ہم ایک ترتیب کے ساتھ چند اصولی باتیں عرض کریں گے تاکہ حضرت یوسف کے اس طرز عمل سے متعلق جو شبہات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں وہ صاف ہوجائیں۔ 1۔ پہلی بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ابھی اس مرحلے میں اپنے آپ کو اپنے بھائیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کو اچھی طرح ٹٹول کر یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اتنا بڑا ظلم کر گزرنے کے بعد، جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا، ان کے باطن میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے یا ابھی ان کے سوچنے کا انداز وہی ہے جو پہلے تھے۔ 2۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ اپنے بھائی بنیامین کو پاجانے کے بعد اب کسی قیمت پر یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس کو ان ظالم لوگوں کے حوالہ کریں۔ انہوں نے خیال فرمایا ہوگا کہ لانے کو تو وہ اس طمع میں اس کو لائے کہ ان کو معلوم تھا کہ اس کے بغیر ان کو غلہ ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن اب واپسی میں ایسے لوگوں سے کیا بعید ہے کہ اس طرح کا کوئی اقدام اس کے ساتھ بھی کر گزریں جس کا اقدام وہ خود ان کے ساتھ کرچکے ہیں۔ آخر حسد کا وہ جذبہ جو ان کے پہلے اقدام کا محرک ہوا وہ تو اس بھائی کے معاملے میں بھی موجود ہے۔ 3۔ تیسری بات یہ ہے کہ ان کو بہرحال ملک کے قانون کا رکھ رکھاؤ بھی مدنظر تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ بادشاہ کی غیر معمولی عقیدت کی وجہ سے حضرت یوسف ؑ کو جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے، ہر قسم کے اختیارات حاصل تھے، لیکن ان کے شایان شان بات یہی تھی کہ وہ جو قدم بھی اٹھائیں وہ قانون ملک کے مطابق ہو۔ بالخصوص جب کہ وہ قانون مبنی بر عدل بھی ہو۔ 4۔ چوتھی بات یہ کہ ان گوناگون حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اگر کوئی طریقہ کارگر ہوسکتا تھا تو توریہ کا طریقہ ہی ہوسکتا تھا۔ توریہ اگر کسی باطل مقصد کے لیے ہو اور اس میں جھوٹ کی بھی ملاوٹ ہو تو وہ توریہ بلاشبہ حرام ہے لیکن اگر یہ کسی مقصد حق کے لیے ہو اور اس میں جھوٹ اور فریب کی آمیزش نہ ہو تو اس توریہ میں نہ صرف یہ کہ کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ بسا اوقات اس کا اختیار کرنا، بالخصوص دشمن کے مقابل میں، مصلحت حق کی خاطر ضروری ہوجاتا ہے۔ اس کی بعض نہایت لطیف اور پاکیزہ مثالیں ہمارے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بھی ملتی ہیں۔ اس قسم کے توریہ میں جو بات کہی یا کی جاتی ہے وہ بجائے خود سچی اور صحیح ہوتی ہے لیکن اس کے کہنے یا کرنے کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ مخاطب اس سے مغالطہ میں پڑجاتا ہے۔ 5۔ حضرت یوسف نے بھائی کے تھیلے میں پیمانہ رکھ کر یاد رکھو اگر ایک منادی سے یہ اعلان جو کرایا کہ اے قافلہ والو تم چور ہو، تو منادی نے یہ اعلان حضرت یوسف کے حکم کی تعمیل میں کیا اور حضرت یوسف نے یہ اعلان کراتے ہوئے بات پیش نظر رکھی وہ یہ نہیں تھی کہ اہل قافلہ نے شاہی پیمانہ چرایا ہے بلکہ انہوں نے خود اپنے واقعہ کو مدنظر رکھا کہ ان کو سیر و تفریح کے بہانے گھر سے لائے اور ایک کنوئیں میں پھینک کر شام کو جب گھر واپس ہوئے تو بوڑے باپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یوسف کو بھیڑیاں کھا گیا۔ چناچہ دیکھ لیجیے کہ منادی کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ " اے قافلہ والو تم نے شاہی پیمانہ چرایا ہے، بلکہ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ " اے قافلہ والو تم چور ہو، ظاہر ہے کہ یہ بات بجائے خود بالکل صحیح تھی البتہ اس سے اس موقع پر یہ مغالطہ ضرور پیدا ہوسکتا تھا کہ کسی خاص چیز کی چوری کو اس اعلان کی وجہ قرار دے لیں۔ 6۔ اس اعلان کے ساتھ ہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کے سارے عملہ میں یہ بات پھیل گئی کہ شاہی پیمانہ گم ہے۔ یہ شاہی پیمانہ چونکہ پہلے پانی پینے کا شاہی کٹورا تھا اس وجہ سے لازماً قیمتی رہا ہوگا اس وجہ سے اس کا چرایا جانا بعید از قیاس نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔ ہوسکتا ہے کسی پہلو سے خود حضرت یوسف نے اس موقع پر شاہی پیمانے کا ذکر چھیڑا ہو اور ان کے عملہ نے از خود رائے قائم کرلی ہو کہ قافلہ والوں پر جس چوری کا الزام ہے وہ شاہی پیمانہ ہی کی چوری ہے۔ 7۔ جب اہل قافلہ نے مڑ کر حضرت یوسف کے آدمیوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں کی کیا چیز کھوئی گئی ہے تو انہوں نے اپنے علم کے مطابق یہ جواب دیا کہ ہمارا شاہی پیمانہ کھویا گیا ہے اور ساتھ ہی ان میں سے ایک نے یہ بھی کہا کہ جو شخص پیمانہ لائے گا اس کو ایک بار شتر غلہ انعام ملے گا اور میں اس کا ضامن بنتا ہوں۔ یہ آخری بات ظاہر ہے کہ حضرت یوسف کے ایما پر کہی گئی ہوگی اور اغلب ہے یہ بات اسی آدمی نے کہی ہو جس نے یہ منادی کی تھی کہ اے قافلہ والو تم چور ہو۔ 8۔ قافلہ والون نے پہلے تو قسم کھا کے اپنی صفائی پیش کی کہ ہم اس ملک میں فساد برپا کرنے نہیں آئے تھے اور نہ ہم چور کرنے والے لوگ ہیں، پھر جب ان سے یہ سوال ہوا کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو چور کی کیا سزا ؟ انہوں نے تھوڑے سے تردد کے ساتھ یہ جواب دیا کہ جس کے کجاوے سے چیز نکلے وہی اس کے بدلہ میں پکڑا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کے یہی معاملہ کرتے ہیں۔ 9۔ اس کے بعد حضرت یوسف نے خود تلاشی لی اور تلاشی کا آغاز بن یامین کے بجائے دوسروں سے کیا تاکہ ان کو کوئی شبہ نہ ہو اور آخر میں بنیامین کے تھیلے سے شاہی پیمانہ برآمد کرلیا۔ اس طرح گویا پنے بھائی کو روک لینے کے وہ ملک کے قانون کی رو سے بھی مجاز ہوگئے اور اپنے بھائیوں کے اقرار کی رو سے بھی۔ 10۔ اس تدبیر کو اللہ تعالیٰ " کید " سے تعبیر اور اس " کید " کو خود اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ " کید " مخفی تدبیر کو کہتے ہیں۔ یہ مخفی تدبیر اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو سجھائی جس کی بدولت وہ اس قابل ہوئے کہ اپنے بھائی کو بھی خطرے سے بچا سکیں اور ملک کے قانون کا احترام بھی باقی رہے۔ اس پوری تفصیل پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس ساری کارروائی میں نہ حضرت یوسف ؑ کسی جھوٹ میں ملوث ہوئے ہیں نہ ان کے آدمی۔ البتہ وقتی طور پر بن یامین پر ایک الزام کا دھبہ لگا لیکن اول تو وہ اس سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، پہلے سے آگاہ کردیے گئے تھے ثانیاً یہ جو کچھ کیا گیا انہی کو سوتیلے بھائیوں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے کیا گیا۔ آخر میں نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ میں حضرت یوسف کے مراتب بلند کی طرف اشارہ بھی ہے اور ان لوگوں پر ایک تعریض بھی جو اپنے علم کو آخری چیز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ان کو دنیا جتنی نظر آتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ بس یہ کائنات کل اتنی ہی ہے اور اپنے اس نشہ میں ان بہت سی حقیقتوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو ان کے محدود علم سے باہر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں بتایا کہ کسی کو بھی اپنے اندازوں اور قیاسوں پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ سب علم والوں سے بڑھ کر بھی ایک علم والا ہے اور اسی کا علم حقیقی ہے۔ اس میں قریش کو، جن کو یہ سرگزشت سنائی گئی ہے، ایک لطیف تنبیہ ہے کہ آج وہ خدا کے رسول کو جن حالات میں دیکھ رہے ہیں ان سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ حالات کا حقیقی علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مستقبل کے پردوں میں کیا چھپا ہوا ہے۔ موجودہ تاریکیوں کے اندر سے کس طرح روشنی برآمد ہوگی اور اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے کس طرح راہیں ہموار ہوں گی۔