تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 78
قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿78﴾
- قَالُوْاکہنے لگے
- يٰٓاَيُّهَااے
- الْعَزِيْزُعزیز
- اِنَّبیشک
- لَهٗٓاس کا
- اَبًاباپ
- شَيْخًابوڑھا
- كَبِيْرًابڑی عمر کا
- فَخُذْپس لے (رکھ لے)
- اَحَدَنَاہم میں سے ایک
- مَكَانَهٗاس کی جگہ
- اِنَّا نَرٰىكَہم دیکھتے ہیں بیشک تجھے
- مِنَسے
- الْمُحْسِنِيْنَاحسان کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے کہا، اے عزیز ! اس کا ایک باپ ہے جو بہت بوڑھا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجیے۔ ہم آپ کو نہایت ہی محسن سمجھتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗٓ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ۔
حضرت یوسف ؑ کی خوشامد : جب انہوں نے دیکھا کہ بازی ہاری گئی تو فوراً خوشامد پر اتر آئے اور حضرت یوسف کو خاص سرکاری خطاب " عزیز " سے جو مصر کے اعلی سرکاری عہدہ داروں کے لیے مخصوص تھا۔ مخاطب کر کے نہایت لجاجت سے عرض کہ حضور ! اس کا باپ بہت بوڑھا ہوچکا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجیے اور اس کو رہا کردیجیے ہم آپ کو ایک نہایت محسن آدمی سمجھتے ہیں امید ہے کہ آپ ہمیں اپنے احسان سے محروم نہ فرمائیں گے۔