تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 94
وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ﴿94﴾
- وَلَمَّااور جب
- فَصَلَتِجدا جدا (روانہ ہو)
- الْعِيْرُقافلہ
- قَالَکہا
- اَبُوْهُمْان کا باپ
- اِنِّىْبیشک میں
- لَاَجِدُالبتہ پاتا ہوں
- رِيْحَہوا (خوشبو)
- يُوْسُفَیوسف
- لَوْلَآاگر نہ
- اَنْکہ
- تُفَنِّدُوْنِمجھے بہک گیا جانو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب قافلہ چلا ان کے باپ نے کہا اگر تم لوگ مجھے خبطی نہ قرار دو تو میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّىْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ۔ " فصل فَصولاً " کے معنی کسی جگہ سے چلنے اور نکلنے کے ہیں اور " تفنید " کے معنی ہیں کسی کو خرف اور بیوقوف سمجھ کر اس کی رائے اور بات کو بےوزن اور غلط قرار دینا۔
پیراہن یوسف کی خوشبو : ادھر قافلہ مصر سے روانہ ہوا ادھر حضرت یعقوب نے اپنے گردوپیش والوں سے فرمایا کہ اگر تم لوگ مجھے خبطی نہ قرار دو تو میں یہ کہوں کہ میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔ شدت توجہ عام حالات میں بھی آدمی کے حواس کی قوت میں بہت اضافہ کردیتی ہے۔ یہاں تو معاملہ بھی خاص نوعیت کا ہے اور قوت حاسہ بھی حضرت یعقوب جیسے پیغمبر کی ہے۔ اس وجہ سے اس بات پر ذرا تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ حضرت یعقوب نے اتنی دور سے پیراہن یوسف کی خوشبو محسوس کرلی۔ انبیاء کے قوی اور حواس کو اپنے قوی اور حواس پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ خاص ہوتا ہے۔
فلسفی گو منکر حنانہ است
از حواس انبیاء بیگانہ است