تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 93
اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ع﴿93﴾
- اِذْهَبُوْاتم جاؤ
- بِقَمِيْصِيْمیری قمیص لے کر
- هٰذَایہ
- فَاَلْقُوْهُپس اس کو ڈالو
- عَلٰيپر
- وَجْهِچہرہ
- اَبِيْمیرے باپ
- يَاْتِآئے گا
- بَصِيْرًابینا ہوکر
- وَاْتُوْنِيْاور میرے پاس آؤ (لے آؤ)
- بِاَهْلِكُمْاپنے گھروالوں کو
- اَجْمَعِيْنَتمام (سارے)
Translation · Tadabbur-e-Quran
تم یہ کرتا لے جاؤ، میرے باپ کے چہرے پر ڈال دیجیو وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور تم لوگ اپنے تمام اہل و عیال کے ساتھ میرے پاس آجاؤ
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا ۚ وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔
پیراہن یوسف کی کرامات : جس ضعفِ بصارت کا سبب غم و الم اور گریہ وزاری ہو، جیسا کہ آیت 84 میں گزر چکا ہے، اس کا واحد علاج یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز سامنے آئے جو نہ صرف اس سارے غم و الم کو دھو کر صاف کردے بلکہ اس کی لائی ہوئی خوشی رگ رگ میں ایک حیات تازہ دوڑا دے۔ حضرت یوسف کو بنیامین کے ذریعہ سے باپ کا سارا حال معلوم ہوچکا تھا کہ روتے روتے ان کی آنکھیں سفید پڑچکی ہیں۔ چناچہ انہوں نے اپنا کرتا بھائیوں کو دیا کہ اس کو لے جاؤ، میرے باپ کے منہ پر اس کو ڈال دینا۔ اس سے ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گی۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ حضرت یعقوب کے سامنے زندگی کا سب سے بڑا غم بھی پیراہن یوسف ہی کی شکل میں آیا تھا جب کہ بھائیوں نے اس پر خون لگا کر بوڑھے باپ کے سامنے پیش کیا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اب زندگی کی سب سے بڑی خوشی بھی پیراہن یوسف ہی کی شکل میں نمودار ہونے والی تھی۔
حضرت یوسف نے اپنے جسم سے لمس کیا ہوا کرتا ہی اپنی نشانی کے طور پر کیوں بھیجا ؟ اور کرتے میں یہ اثر کہاں سے آیا کہ اس سے بصارت عود کر آئے ؟ یہ سوالات نہ ہر شخص کے حل کرنے کے ہیں اور نہ اس کا حل ہر شخص کی سمجھ میں آسکتا ہے۔ ان چیزوں کا تعلق جذبات سے ہے اور جذبات بھی ایسے عالی مقام لوگوں کے کہ ایک طرف حضرت یعقوب ہیں، دوسری طرف حضرت یوسف۔ ہم عامی اس طرح کے معاملات میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ سچے جذبات کی تاثیر و تاثر کے کرشمے ایسی حیرت انگیز صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں کہ عقل ان کی توجیہ سے بالکل قاصر رہ جاتی ہے۔ وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ ، بھائیوں کو تو حضرت یوسف نے یہ ہدایت بھی فرمائی کہ اپنے اہل و عیال سمیت سب یہاں آجاؤ۔ والدین کا ذکر غایت وضاحت کی وجہ سے حذف ہے۔ ظاہر ہے کہ اصل مقصود تو انہی کو بلانا تھا۔ بقیہ سارے تو ان کے توابع کی حیثیت رکھتے تھے۔