تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 96
فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿96﴾
- فَلَمَّآپھر جب
- اَنْکہ
- جَآءَآیا
- الْبَشِيْرُخوشخبری دینے والا
- اَلْقٰىهُاس نے وہ (کرتہ) ڈالا
- عَلٰيپر
- وَجْهِهٖاس کا منہ
- فَارْتَدَّتو لوٹ کر ہوگیا
- بَصِيْرًادیکھنے والا
- قَالَبولا
- اَلَمْ اَقُلْکیا میں نے تمہیں کہا تھا
- لَّكُمْتم سے
- اِنِّىْٓ اَعْلَمُبیشک میں جانتا ہوں
- مِنَ(طرف) سے
- اللّٰهِاللہ
- مَاجو
- لَا تَعْلَمُوْنَتم نہیں جانتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب یوں ہوا کہ خوش خبری دینے والا آیا اس نے کرتا اس کے چہرے پر ڈال دیا، اس کی بصارت عود کر آئی تو اس نے کہا، کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی جانب سے وہ باتیں جانتا ہو جو تم نہیں جانتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ڌ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔
فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ میں " اَنْ " سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یعنی یہ بات واقع ہوئی کہ خوشخبری دینے والا پہنچا تو یوسف کا کرتا اس نے حضرت یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا اور ان کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔ انہوں نے فرمایا " کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے۔ یہ اس بات کا حوالہ ہے جو پیچھے آیت 86 میں گزرچکی ہے۔ جو بات انہوں نے فرمائی تھی جب وہ واقعہ کی شکل میں ظہور میں آگئی تو انہوں نے اس پر اظہارِ مسرت بھی فرمایا اور بیٹوں کو یہ تعلیم بھی دی کہ وہ صرف ظاہر کے غلام بن کر زندگی نہ گزاریں بلکہ اس ظاہر کے اندر خدا کے مخفی ہاتھوں کی جو کارفرمائیاں ہیں ان پر بھی ایمان رکھیں۔ اس کے بغیر خدا پر ایمان و توکل کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔