تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 10
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ﴿10﴾
- سَوَآءٌبرابر
- مِّنْكُمْتم میں
- مَّنْجو
- اَسَرَّآہستہ کہے
- الْقَوْلَبات
- وَمَنْاور جو
- جَهَرَ بِهٖپکار کر۔ اسکو
- وَمَنْاور جو
- هُوَوہ
- مُسْتَخْفٍچھپ رہا ہے
- بِالَّيْلِرات میں
- وَسَارِبٌاور چلنے والا
- بِالنَّهَارِدن میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس کے علم میں یکساں ہیں تم میں سے وہ جو بات کو چپکے سے کہیں اور وہ جو بلند آواز سے کہیں اور جو شب کی تاریکی میں چھپے ہوئے ہوں اور جو دن کی روشنی میں نقل و حرکت کر رہے ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَار۔ مطلب یہ کہ دیر سویر کی فکر تو اس کو ہو جس کو اندیشہ ہو کہ ذرا تاخیر ہوئی تو وقت نکل جائے گا اور پھر حریف قابو میں نہ آسکے گا۔ جس کا علم اور جس کی قدرت ہر چیز اور ہر شخص کا اس طرح احاطہ کیے ہوئے ہو کہ اس کا " سرا وعلانیۃ " سب اس کے علم میں ہو اور اس کی شب اور اس کے روز کی ہر نقل و حرکت پر اس کو پورا اختیار حاصل ہو وہ پکڑنے میں جلد بازی کیوں کرے ؟ وہ جب چاہے گا اور جہاں سے چاہے گا ہر ایک کو پکڑے گا۔ کس کی طاقت ہے کہ اس کے قابو سے باہر نکل سکے یا کہیں اس سے چھپ سکے۔