Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 11

  1. لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ﴿11﴾

    1. لَهٗاس کے
    2. مُعَقِّبٰتٌپہرے دار
    3. مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِاس (انسان) کے آگے سے
    4. وَاور
    5. مِنْ خَلْفِهٖاس کے پیچھے سے
    6. يَحْفَظُوْنَهٗوہ اس کی حفاظت کرتے ہیں
    7. مِنْسے
    8. اَمْرِ اللّٰهِاللہ کا حکم
    9. اِنَّبیشک
    10. اللّٰهَاللہ
    11. لَا يُغَيِّرُنہیں بدلتا
    12. مَاجو
    13. بِقَوْمٍکسی قوم کے پاس (اچھی حالت)
    14. حَتّٰىیہاں تک کہ
    15. يُغَيِّرُوْاوہ بدل لیں
    16. مَاجو
    17. بِاَنْفُسِهِمْاپنے دلوں میں (اپنی حالت)
    18. وَاِذَآاور جب
    19. اَرَادَارادہ کرتا ہے
    20. اللّٰهُاللہ
    21. بِقَوْمٍکسی قوم سے
    22. سُوْٓءًابرائی
    23. فَلَا مَرَدَّتو نہیں پھرنا
    24. لَهٗاس کے لیے
    25. وَمَااور نہیں
    26. لَهُمْان کے لیے
    27. مِّنْ دُوْنِهٖاس کے سوا
    28. مِنْ وَّالٍکوئی مددگار
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان پر ان کے آگے اور پیچھے سے امر الٰہی کے موکل لگے رہتے ہیں جو باری باری سے ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرلے اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی اور ان کا اس کے مقابل میں کوئی بھی مددگار نہیں بن سکتا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّال۔ " معقبت " یعنی ارواح معقبات " مراد اس سے وہ فرشتے ہیں جو باری باری ہر انسان پر خدا کی طرف سے نگرانی کے لیے مقرر ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ من امر اللہ بیان کے لیے ہے جس طرح قل الروح من امر ربی۔ اور بعض دوسری آیات میں ہے۔ یعنی یہ فرشتے یا یہ ارواح اللہ اللہ کے امر سے ہیں۔ اوپر کے مضمون کی توضیح مزید : یہ آیات اوپر والی آیت کے مضمون کی توضیح مزید ہے۔ یعنی اللہ ہر شخص کے ظاہر و باطن اور اس کے شب و روز سے پوری طرح آگاہ ہے۔ اس نے ہر شخص پر اپنے فرشتے بطور پہرہ دار مقر کر رکھے ہیں۔ یہ فرشتے اللہ کے امر میں سے ہیں جو ہرو وقت ہور شخص کے ہر قول و فعل کی نگرانی کرتے ہیں۔ عذاب کے معاملے میں سنت الٰہی : اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ۔ اب یہ قوموں کے عذاب کے معاملے میں اصل سنت اللہ کی وضاحت فرما دی کہ اللہ تعالیٰ اپنا معاملہ کسی قو کے ساتھ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرلے۔ جب قوم خود اپنی روش بدل لیتی ہے اور تنبیہ و انذار کے باوجود متنبہ نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس پر وہ عذاب بھیجتا ہے جس کو کوئی طاقت بھی دفع نہیں کرسکتی۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کی نشانیوں کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس سنت الٰہی کی روشنی میں اپنے حالات کا جازہ لوگ۔ اگر تم نے خود اپنی روش بدل لی ہے تو بس سمجھ لو کہ خدا کا تمہارے ستھ جو معاملہ اب تک رہا ہے اب اس کے بدلنے میں بھی دیر نہیں ہے اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ جب خدا کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا یصلہ کرلیتا ہے تو اس قضائے مبرم کو ٹالنے کا بوتا کسی میں نہیں ہوتا۔ تمہارے سارے اصنام خیالی اور سارے قلعے اور دمدمے ہوا ہوجائیں گے۔