تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 21
وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ﴿21﴾
- وَاور
- الَّذِيْنَوہ جو کہ
- يَصِلُوْنَجوڑے رکھتے ہیں
- مَآجو
- اَمَرَ اللّٰهُاللہ نے حکم دیا
- بِهٖٓاس کا
- اَنْکہ
- يُّوْصَلَجوڑا جائے
- وَيَخْشَوْنَاور وہ ڈرتے ہیں
- رَبَّهُمْاپنا رب
- وَيَخَافُوْنَاور خوف کھاتے ہیں
- سُوْٓءَبرا
- الْحِسَابِحساب
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو اس چیز کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے اور وہ اپنے رب سے ڈرتے اور سخت حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُوْنَ سُوْۗءَ الْحِسَابِ۔
رشتہ رحم کا احترام : " ما امر اللہ بہ ان یوصل " سے مراد رشتہ رحم کا پاس و احترام ہے۔ یعنی جس طرح وہ اللہ کے حقوق کا دل سے احترام کرتے ہیں اسی طرح بندوں کے جو حقوق ان پر بنائے رشتہ رحم عاید ہوتے ہیں ان کو بھی پوری فیاضی سے ادا کرتے ہیں، وہ رشتہ رحم کو کاٹتے نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق اس کو جوڑتے ہیں۔ اور یہ س کچھ وہ کسی نمود و نمائش یا غرض کے لیے نہیں بلکہ خدا کے ڈر سے اور اس کی رضا جوئی کے لیے کرتے ہیں۔ سورة دہر میں بھی یہی حقیقت یوں واضح فرمائی گئی ہے۔ یطعمون الطعام علی حبہ مسکینا و یتیما واسیرا۔ انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نرید منکم جزاء ولا شکورا، انا نخاف من ربنا یوم عبوسا قمطریرا۔