تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 26
اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ع﴿26﴾
- اَللّٰهُاللہ
- يَبْسُطُکشادہ کرتا ہے
- الرِّزْقَرزق
- لِمَنْ يَّشَآءُجس کے لیے وہ چاہتا ہے
- وَيَقْدِرُتنگ کرتا ہے
- وَفَرِحُوْااور وہ خوش ہیں
- بِالْحَيٰوةِزندگی سے
- الدُّنْيَادنیا
- وَمَااور نہیں
- الْحَيٰوةُ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
- فِيمقابلہ (میں)
- الْاٰخِرَةِآخرت
- اِلَّامگر (صرف)
- مَتَاعٌمتاع حقیر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ رزق کو کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور یہ دنیا کی زندگی پر مگن ہیں اور یہ دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابل میں محض ایک متاع حقیر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ ۭ وَفَرِحُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۔
اصل تقدیر کلام یوں ہے۔ یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر لمن یشاء۔ قرینہ کی وضاحت کے سبب سے ایک جگہ لمن یشاء کو حذف کردیا۔ " قدر " کے معنی تو اندازہ کرنے کے ہیں لیکن یہاں یہ تنگ کردینے کے معنی میں ہے۔ لفظ " متاع " کی تنکیر تقلیل کے مفہوم پر دلیل ہے۔
اصل سبب انکار کی وضاحت : اب یہ ان منکرین کے اصل سبب انکار و تکذیب کو واضح فرمایا جا رہا ہے کہ ان کو جو دنیا کی نعمتیں ملی ہیں ان کے سبب سے یہ غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے ہیں اور پیغمبر کی طرف سے آخرت کی یاد داہنی ان پر شاق گزر رہی ہے۔ حالانکہ یہ اللہ ہی ہے جو جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے دروازے کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے جس کے لیے وہ کشادہ کرتا ہے اس سے وہ چانہتا ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنے اور جس کے لیے تنگ کرتا ہے اس سے وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ صبر کرے۔ اسی صبر و شکر پر تمام دین کی عمارت قائم ہے۔ جو لوگ اس دنیا کے خزف ریزے پا کر اس کے غرور میں آخرت کو بھول بیٹھے ہیں وہ جب روز آخرت میں شاکرین و صابرین کے اجر کو دیکھیں گے۔ تب انہیں اندازہ ہوگا کہ نہایت ہی حقیر چیز کے لیے انہوں نے یہ ابدی بادشاہی کھو دی۔