تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 35
مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ﴿35﴾
- مَثَلُکیفیت
- الْجَنَّةِجنت
- الَّتِيْوہ جو کہ
- وُعِدَوعدہ کیا گیا
- الْمُتَّقُوْنَپرہیزگار (جمع)
- تَجْرِيْبہتی ہیں
- مِنْ تَحْتِهَااس کے نیچے
- لْاَنْهٰرُنہریں
- اُكُلُهَااس کے پھل
- دَآئِمٌدائم
- وَّظِلُّهَااور اس کا سایہ
- تِلْكَیہ
- عُقْبَىانجام
- الَّذِيْنَ اتَّقَوْاپرہیزگاروں (جمع)
- وَّعُقْبَىاور انجام
- الْكٰفِرِيْنَکافروں
- النَّارُجہنم
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس جنت کی تمثیل جس کا متقیوں سے وعدہ ہے یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اس کا پھل بھی دائمی اور اس کا سایہ بھی دائمی۔ یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقوی اختیار کیا اور کافروں کا انجام دوزخ ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۭ اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ۔
متقین کے انجام کا بیان : اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ و ظلہا، میں ظلہا، کی خبر قرینہ کی وضاحت کے سبب سے محذوف ہے عنی ظلہا دائم، یہ مقابلہ کے اصول کے مطابق رسول کے مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد ان لوگوں کا انجام بھی بیان فرما دیا جو اپنی خدا ترسی سے رسول پر ایمان لائے۔ فرمایا کہ وہ ایسے سدا بہار باغوں میں اتارے جائیں گے جن کی پیداوار بھی دائمی اور جن کا سایہ بھی دائمی۔ یعنی وہ کبھی خزاں سے آشنا نہیں ہوں گے۔