Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 38

  1. رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ﴿38﴾

    1. رَبَّنَآاے ہمارے رب
    2. اِنَّكَبیشک تو
    3. تَعْلَمُتو جانتا ہے
    4. مَا نُخْفِيْجو ہم چھپاتے ہیں
    5. وَمَااور جو
    6. نُعْلِنُہم ظاہر کرتے ہیں
    7. وَمَااور نہیں
    8. يَخْفٰىچھپی ہوئی
    9. عَلَي اللّٰهِاللہ پر
    10. مِنْسے۔ کوئی
    11. شَيْءٍچیز
    12. فِي الْاَرْضِزمین میں
    13. وَلَااور نہ
    14. فِيمین
    15. السَّمَآءِآسمان
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے ہمارے رب تو جاتنا ہے تو جو ہم پوشیدہ رکھتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں اور اللہ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِيْ وَمَا نُعْلِنُ ۭ وَمَا يَخْفٰى عَلَي اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ۔ رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِيْ وَمَا نُعْلِنُ ، اس فقرے کی بلاغت احاطہ بیان میں نہیں آسکتی۔ بندہ جب اپنے رب سے کسی اہم معاملے میں دعا کرتا ہے تو اس کی ایک بڑی مشکل یہ پیش آتی ہے کہ بعض باتیں وہ کہنا تو چاہتا ہے لیکن وہ بیان میں نہیں آتیں، اسی طرح بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو دل میں تو ہوتی ہیں لیکن وہ ان کے کہنے میں کسی مبہم سبب سے کچھ حجاب سا محسوس کرتا ہے۔ اس فقرے نے اس طرح کی ساری باتوں کو سمیٹ لیا اس لیے کہ خدا کا علم ظاہر و مخفی سب کو محیط ہے۔