Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 49

  1. وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ﴿49﴾

    1. وَتَرَىاور تو دیکھے گا
    2. الْمُجْرِمِيْنَمجرم (جمع)
    3. يَوْمَئِذٍاس دن
    4. مُّقَرَّنِيْنَباہم جکڑے ہوئے
    5. فِيمیں
    6. الْاَصْفَادِزنجیریں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم مجرموں کو اس دن زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھو گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر آیات 49 تا 51: وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ۔ سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُ۔ لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۔ سَرَابِيْلُ ، سربال کی جمع ہے جس کے معنی قمیض کے بھی آتے ہیں اور لباس کے مفہوم میں بھی یہ آتا ہے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ یہ دوسرے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ قَطِرَانٍ کے اہل لغت نے مختلف معنی لکھے ہیں لیکن تارکول کے لیے یہ لفظ معروف ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں اسی معنی میں ہے۔ مستحقین دوزخ کے جسموں اور چہروں کی ساہی کا ذکر قرآن میں دوسرے مقامات میں بھی ہے۔ پھر تارکول پر آگ جس طرح بھڑکتی ہے وہ ایک معلوم و معروف حقیقت ہے۔ یوم آخرت کے ہول کی مزید تفصیل : یہ اس دن کی ہولناکی کی مزید تفصیل ہے کہ اس دن تمام مجرمین زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ ان کے لباس تارکول کے ہوں گے اور ان کے چہروں پر آگ کے شعلوں کی لپٹ ہوگی اور یہ سب کچھ اس لیے ہوگا تاکہ ہر جان اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ ساری مخلوق کا حساب کرنے میں کوئی بڑا عرصہ لگ جائے گا۔ خدا پلک جھپکتے سب کا حساب چکا دے گا۔