Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 7

  1. وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ﴿7﴾

    1. وَاِذْ تَاَذَّنَاور جب آگاہ کیا
    2. رَبُّكُمْتمہارا رب
    3. لَئِنْالبتہ اگر
    4. شَكَرْتُمْتم شکر کرو گے
    5. لَاَزِيْدَنَّكُمْمیں ضرور تمہیں اور زیادہ دوں گا
    6. وَلَئِنْاور البتہ اگر
    7. كَفَرْتُمْتم نے ناشکری کی
    8. اِنَّبیشک
    9. عَذَابِيْمیرا عذاب
    10. لَشَدِيْدٌبڑا سخت
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر گزار رہے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہوگا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ۔ وقت کے بنی اسرائیل کو یاد دہانی : " تاذن " کے معنی باخبر اور آگاہ کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ نے تو وہ بات کہی تھی جو اوپر گزری اور ساتھ ہی تمہارے رب نے بھی تمہیں آگاہ کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ نے تو وہ بات کہی تھی جو اوپر گزری اور ساتھ ہی تمہارے رب نے بھی تمہیں آگاہ کردیا تھا کہ اگر تمیرے احکام و ارشادات کی پیروی کرکے میرے شکر گزار رہے تو میں تمہاری تعداد اور اپنے افضال و عنایات میں برابر اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری اور نافرمانی کی راہ پر چل پڑے تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی بڑا ہی سخت ہوگا۔ یہ بات بھی وقت کے بنی اسرائیل کو یاد دہانی کے لیے یہاں لائی گئی ہے اور " ربک " کے خطاب سے واضح ہے کہ یہ ان کو براہ راست مخاطب کرکے فرمائی گئی ہے۔