Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 15. Al-Hijr · Ayah 14

  1. وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ﴿14﴾

    1. وَلَوْاور اگر
    2. فَتَحْنَاہم کھول دیں
    3. عَلَيْهِمْان پر
    4. بَابًاکوئی دروازہ
    5. مِّنَسے
    6. السَّمَآءِآسمان
    7. فَظَلُّوْاوہ رہیں
    8. فِيْهِاس میں
    9. يَعْرُجُوْنَچڑھتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیتے جس میں وہ چڑھنے لگتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر آیت 14 تا 15: منکرین کے انکار کا اصلی سبب : وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ۔ لَقَالُوْٓا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۔ یعنی فرشتوں کا اتارا جانا تو الگ رہا اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے لگ جائیں جب بھی وہ ایمان نہ لانے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کر ہی لیں گے۔ کہیں گے ہماری نگاہیں خیرہ کردی گئی ہیں اور ہماری پوری قوم، مردوں اور عوتوں سب پر، جادو کردیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ ان کی طلب کے مطابق ان کو کوئی معجزہ نہیں دکھایا جا رہا ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور اپنے مزعومات میں کوئی تبدیلی قبول کرنے اور استکبار کے سبب سے پیغمبر کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔