Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 108

  1. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ﴿108﴾

    1. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    2. الَّذِيْنَوہ جو کہ
    3. طَبَعَ اللّٰهُاللہ نے مہر لگا دی
    4. عَلٰيپر
    5. قُلُوْبِهِمْان کے دل
    6. وَسَمْعِهِمْاور ان کے کان
    7. وَاَبْصَارِهِمْان کی آنکھیں
    8. وَاُولٰٓئِكَاور یہی لوگ
    9. هُمُوہ
    10. الْغٰفِلُوْنَغافل (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہی لوگ ہیں جن کے دلوں اور جن کے سمع و بصر پر اللہ نے مہر کردی اور یہی لوگ ہیں جو آخر سے غافل ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ۔ فرمایا کہ ایسے لوگ جو ایمان کی روشنی ایک مرتبہ دیکھ لینے کے بعد، محض اپنے دنیوی مفادات کی خاطر اس سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں، ان کے کانوں، اور ان کی آنکھوں پر مہر کردیا کرتا ہے اور وہ ہدایت کی توفیق سے بالکل ہی محروم ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خود اصل حقیقت پر غور کرتے، نہ کسی دوسرے معقول آدمی کی بات سنتے اور نہ بصیرت حاصل کرنے کے لیے اپنی آنکھیں کھولتے۔ یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت بقرہ کی آیت 7 کے تحت ہوچکی ہے۔ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ۔ یعنی اصل بیخبر یہی لوگ ہیں اس لیے کہ ان کے دل اور ان کے کان آنکھ سب جپاٹ ہوچکے ہیں۔ کسی طرف سے بھی کوئی بصیرت کی کرن ان کے اندر داخل ہونے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔