تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 127
وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ﴿127﴾
- وَاصْبِرْاور صبر کرو
- وَمَااور نہیں
- صَبْرُكَتمہارا صبر
- اِلَّامگر
- بِاللّٰهِاللہ کی مدد سے
- وَلَا تَحْزَنْاور غم نہ کھاؤ
- عَلَيْهِمْان پر
- وَلَا تَكُاور نہ ہو
- فِيْمیں
- ضَيْقٍتنگی
- مِّمَّااس سے جو
- يَمْكُرُوْنَوہ فریب کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور صبر کرو اور تمہیں صبر حاصل نہیں ہوسکتا مگر اللہ ہی کے تعلق سے اور تم نہ ان پر غم کرو اور نہ ان کی ان چالوں سے جو یہ چلتے رہتے ہیں پریشانی میں مبتلا ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ۔
صبر کی ہدایت اور حصول صبر کی تدبیر : خطاب اگرچہ لفظا پیغمبر ﷺ سے ہے لیکن معنا، جیسا کہ اوپر والی آیت میں واضح ہوچکا ہے، تمام مسلمانوں سے ہے، گویا آپ کے واسطہ سے یہ تمام مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے۔ ہی صبر کی ہدایت بھی ہے اور حصول صبر کی تدبیر بھی۔ فرمایا وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ یعنی صبر نہیں حاصل ہوسکتا مگر اللہ کے تعلق سے۔ جو صبر کا مقام حاصل کرنا چاہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو زیادہ سے زیادہ بڑھائے۔ خدا کے ساتھ تعلق کا واسطہ اس کا ذکر ہے اور ذکر کا سب سے اعلی طریقہ نماز ہے اس وجہ سے قرآن کے دوسرے مقامات میں صبر کے ساتھ نماز خصوصاً تہجد کے اہتمام کی تاکید فرمائی گئی۔ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ۔ یعنی نہ ان شامت زدوں کی حالت پر غم کرو اور نہ ان کی ان چالوں سے جو یہ رات دن چل رہے ہیں ہراساں اور پیشان ہو۔