تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 30
Tafseerوَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ﴿30﴾
- وَقِيْلَاور کہا گیا
- لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْاان لوگوں سے جنہوں نے پرہیزگاری کی
- مَاذَآکیا
- اَنْزَلَاتارا
- رَبُّكُمْتمہارا رب
- قَالُوْاوہ بولے
- خَيْرًابہترین
- لِلَّذِيْنَان کے لیے جو لوگ
- اَحْسَنُوْابھلائی کی
- فِيْمیں
- هٰذِهِاس
- الدُّنْيَادنیا
- حَسَنَةٌبھلائی
- وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِاور آخرت کا گھر
- خَيْرٌبہتر
- وَلَنِعْمَاور کیا خوب
- دَارُ الْمُتَّقِيْنَپرہیزگاروں کا گھر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو تقوی والے ہیں ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ خوب چیز اتاری ہے۔ جن لوگوں نے بھلائی کی راہ اختیار کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور دار آخرت تو اس سے کہیں بہتر ہے اور کیا ہی خوب ہے اہل تقوی کا گھر !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوْا خَيْرًا ۭ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ ۭ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ۔
متکبرین کے بالمقابل متقین کا رویہ : اب یہ متکبرین کے مقابل میں، ان لوگوں کا رویہ بیان ہو رہا ہے جو خدا سے ڈرنے والے تھے۔ فرمایا کہ جب پوچھنے والے ان سے پوچھتے ہیں کہ خدا نے کیسی چیز اتاری ہے تو وہ اس کی نہایت تحسین کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ نہایت خوب چیز اتاری ہے۔ للذین احسنوا الایۃ یہ ان متقیوں اور خوب کاروں کا وہ صلہ بیان ہوا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں ان کو ملنے والا ہے۔ فرمایا کہ ان کے لیے دنیا میں بھی بھلائی اور کامیابی ہے اور آخرت کا تو پوچنا ہی کیا ہے، وہ تو ہے ہی بہتر ولنعم دار المتقین بالکل فلبئس مثوی المتکبرین کے مقابل میں ہے۔ جس طرح متکبرین کے ٹھکانے کے برے ہونے کی کوئی حد نہیں اسی طرح متقیوں کے گھر کے اچھے ہونے کی کوئی حد نہیں۔
یہاں ان متقیوں کے لیے صریح الفاظ میں اس دنیا میں بھی کامیابی و نصرت کی بشارت ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، یہ ہے کہ رسول اور اس کے ساتھیوں کے لیے اس دنیا میں بھی غلبہ اور اقتدار لازمی ہے۔ آگے آیت 41 کے تحت ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے