Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 58

  1. وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ﴿58﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. بُشِّرَخوشخبری دی جائے
    3. اَحَدُهُمْان میں سے کسی کو
    4. بِالْاُنْثٰىلڑکی کی
    5. ظَلَّہوجاتا (پڑجاتا) ہے
    6. وَجْهُهٗاس کا چہرہ
    7. مُسْوَدًّاسیاہ
    8. وَّهُوَاور وہ
    9. كَظِيْمٌغصہ سے بھر جاتا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تفسیر آیت 58 تا 59:۔ یعنی خدا کی طرف تو انہوں نے بیٹیاں منسوب کررکھی ہیں در آنحالیکہ بیٹیوں کے معاملے میں خود ان کا اپنا حال یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کو یہ خبر دی جائے کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو غم سے اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ ہر وقت رنج والم سے گھٹا گھٹا رہتا ہے، اس کو اپنے لیے ابعث ننگ سمجھ کر لوگوں چھپتا پھرتا ہے اور اس تردد میں پڑجاتا ہے کہ ذلت گوارا کرکے اس کو زندہ رکھے یا اس کو زمین میں دفن کرکے اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ اَلَا سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ۔ یعنی جس چیز کو اپنے لیے مکروہ سمجھتے ہیں اسی چیز کو خدا کی طرف یوں بےتکلف منسوب کرتے ہیں، اتنی توفیق بھی نہیں ہوئی کہ خدا کی طرف اس چیز کو منسوب کرنے میں احتیاط کرتے جس چیز کو اپنے لیے اس درجہ مکروہ سمجھتے ہیں۔ افسوس کتنا برا فیصلہ ہے جو انہوں نے کیا۔