تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 77
وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿77﴾
- وَلِلّٰهِاور اللہ کے لیے
- غَيْبُپوشیدہ باتیں
- السَّمٰوٰتِآسمانوں
- وَالْاَرْضِاور زمین
- وَمَآاور نہیں
- اَمْرُ السَّاعَةِکام ( آنا) قیامت
- اِلَّامگر (صرف)
- كَلَمْحِ الْبَصَرِجیسے جھپکنا آنکھ
- اَوْیا
- هُوَوہ
- اَقْرَبُاس سے بھی قریب
- اِنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ
- عَلٰيپر
- كُلِّہر
- شَيْءٍشے
- قَدِيْرٌقدرت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور آسمانوں اور زمین کا بھید اللہ ہی کے لیے ہے اور قیامت کا معاملہ بس آنکھ جھپکنے کی طرح یا اس سے بھی جلد تر ہوگا، بےشکا للہ ہر چیز پر قادر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اثنائے کلام میں ایک تنبیہ : وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔
یہ اثنائے کلام میں ضدی مخاطبوں کو ایک تنبیہ ہے کہ قیامت کو بہت بعید نہ سمجھو۔ اگر اس کا وقت معلوم نہیں ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ آئے گی ہی نہیں۔ آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے علم میں ہے۔ جب وہ اس کو لانا چاہے گا تو وہ آنکھ جھپکتے کی طرح آجائے گی بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔