تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 78
وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿78﴾
- وَاللّٰهُاور اللہ
- اَخْرَجَكُمْتمہیں نکالا
- مِّنْسے
- بُطُوْنِپیٹ (جمع)
- اُمَّهٰتِكُمْتمہاری مائیں
- لَا تَعْلَمُوْنَتم نہ جانتے تھے
- شَيْئًاکچھ بھی
- وَّجَعَلَاور اس نے بنایا
- لَكُمُتمہارے لیے
- السَّمْعَکان
- وَالْاَبْصَارَاور آنکھیں
- وَالْاَفْئِدَةَاور دل (جمع)
- لَعَلَّكُمْتاکہ تم
- تَشْكُرُوْنَتم شکر ادا کرو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور اس نے تمہارے لیے سمع و بصر اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزار بنو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا ۙ وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔
یعنی انسان جب پیدا ہوتا ہے تو صرف ایک مغضۂ گوشت ہوتا ہے۔ عقل و علم اور قوت وصلاحیت سے بالکل عاری۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو سمع و بصر اور دل و دماغ کی قوتیں عطا فرماتا ہے۔ ان نعمتوں کا حق یہ ہے کہ تم اللہ کے شکر گزار بنو لیکن اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پا کر ان کو خدا ہی کی ناشکری کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اسی مضمون کو سورة ملک میں یوں بیان فرمایا قل ھو الذی انشاکم وجعل لکم السمع والابصاری والافئدۃ قلیلا ما تشکرون : کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہیں سمع و بصر و دل و عطا فرمائے لیلکن تم بہت کم شکر گزار ہوتے ہو۔