Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 93

  1. وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿93﴾

    1. وَلَوْاور اگر
    2. شَآءَ اللّٰهُاللہ چاہتا
    3. لَجَعَلَكُمْتو البتہ بنا دیتا تمہیں
    4. اُمَّةً وَّاحِدَةًایک امت
    5. وَّلٰكِنْاور لیکن
    6. يُّضِلُّگمراہ کرتا ہے
    7. مَنْ يَّشَآءُجسے وہ چاہتا ہے
    8. وَاور
    9. يَهْدِيْہدایت دیتا ہے
    10. مَنْ يَّشَآءُجس کو وہ چاہتا ہے
    11. وَلَتُسْئَلُنَّاور تم سے ضرور پوچھا جائیگا
    12. عَمَّااس کی بابت
    13. كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَتم کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ گمراہ کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کے باب میں ضرور تم سے پرسش ہونی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ يُّضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَلَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ یعنی اگر اللہ اپنے جبر و زور سے کام لینا چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اس نے جبر کے بجائے تمہیں اختیار بخشا ہے اور اس طرح تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنی سمجھ بوجھ اور اپنے اختیار و ارادہ سے کام لے کر ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہو یا ضلالت کی، تو تم میں سے جو ہدایت کے طالب بنتے ہیں ان کو ہدایت کی توفیق بخشتا ہے اور جو ضلالت ہی پر جمے رہنا چاہتے ہیں ان کو اسی پر چھوڑ دیتا ہے۔ ہم یہ حقیقت جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ خدا کی مشیت اس کی حکمت کے تحت ہے۔ وَلَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ، یعنی اس بات کو یاد رکھو کہ اس نے تمہیں ہدایت و ضلالت میں امتیاز کرنے کے لیے عقل بھی عطا فرمائی ہے، پھر اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے بھی تم پر حجت تمام کردی ہے۔ اس وجہ سے ایک دن آئے گا جب تم میں سے ایک ایک سے جو کچھ تم کرتے رہے اس کی بابت پرسش ہونی ہے اور پھر تم اپنے اعمال ہی کے مطابق جزا و سزا پاؤگے