Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 94

  1. وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿94﴾

    1. وَاور
    2. لَا تَتَّخِذُوْٓاتم نہ بناؤ
    3. اَيْمَانَكُمْاپنی قسمیں
    4. دَخَلًۢادخل کا بہانہ
    5. بَيْنَكُمْاپنے درمیان
    6. فَتَزِلَّکہ پھسلے
    7. قَدَمٌکوئی قدم
    8. بَعْدَ ثُبُوْتِهَااپنے جم جانے کے بعد
    9. وَتَذُوْقُوااور تم چکھو
    10. السُّوْٓءَبرائی (وبال)
    11. بِمَااس لیے کہ
    12. صَدَدْتُّمْروکا تم نے
    13. عَنْسے
    14. سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کا راستہ
    15. وَلَكُمْاور تمہارے لیے
    16. عَذَابٌعذاب
    17. عَظِيْمٌبڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم اپنی قسموں کو آپس میں فریب کا ذریعہ نہ بناؤ کہ کوئی قدم جمنے کے بعد پھسل جائے اور تم اللہ کی راہ سے روکنے کی پاداش میں عذاب چکھو اور تمہارے واسطے ایک عذاب عظیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَتَذُوْقُوا السُّوْۗءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ یہود کا ذریعہ افساد قسمیں تھیں۔ یہود لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لیے سب سے زیادہ جس ہتھیار سے کام لیتے تھے وہ ان کی قسمیں تھیں۔ جھوٹے لوگ اول تو اپنی نفسیاتی کمزوری کے سبب سے قسمیں کھاتے ہی زیادہ ہیں، پھر ان کے پاس دلیل کون سی تھی جس کو وہ اسلام اور پیغمبر ﷺ کے خلاف پیش کرسکتے لے دے کے قسموں ہی کا سہارا تھا۔ وہ انہی کے بل پر کوشش کرتے کہ جن لوگوں کے قدم اسلام میں جم چکے ہیں ان کو متزلزل کردیں اور جو لوگ ان کی طرف مائل ہورہے ہیں ان کو اس کی طرف بڑھنے سے روک دیں۔ یہ لوگ چونکہ سابق مذہب اور سابق انبیاء کے وارث ہونے کے بھی مدعی تھے اس وجہ سے اپنی مذہبی تقدس کے پردے میں وہ لوگوں کو قسمیں کھا کھا کے یقین دلانے کی کوشش کرتے کہ اس نئے مذہب اور نئے پیغمبر کو سابق مذاہب اور سابق انبیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ پیغمبر سابق مذاہب اور انبیاء کا جو حوالہ دیتے ہیں نعوذ باللہ اس میں وہ جھوٹے ہیں۔ وَتَذُوْقُوا السُّوْۗءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ سوء کے معنی بدی اور برائی کے ہیں۔ یہاں سوء سے مراد نتیجہ سوء اور انجام سوء یعنی عذاب ہے۔ چونکہ عذاب الٰہی لوگوں کے اپنے اعمال ہی کا مثمرہ اور نتیجہ ہوگا اس وجہ سے یہاں فعل ہی سے نتیجہ فعل کو ظاہر کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرو کہ تمہاری فریب کارانہ قسموں سے کسی کے حق پر جمے ہوئے قدم اکھڑ جائیں اور تمہیں اللہ کی راہ سے روکنے کے اس جرم کی پاداش میں اپنے کیے کی سزا بھگتنی پڑے۔ اگر ایسا ہوا تو تمہارے لیے ایک عذاب عظیم تم حق کے گواہ بنا کر کھڑے کیے گئے ہو اگر تمہی نے حق سے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی تو سزا بھی اس کی بہت ہی سخت بھگتو گے۔