Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 95

  1. وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿95﴾

    1. وَاور
    2. لَا تَشْتَرُوْاتم نہ لو
    3. بِعَهْدِ اللّٰهِاللہ کے عہد کے بدلے
    4. ثَمَنًامول
    5. قَلِيْلًاتھوڑا
    6. اِنَّمَابیشک جو
    7. عِنْدَ اللّٰهِاللہ کے ہاں
    8. هُوَوہی
    9. خَيْرٌبہتر
    10. لَّكُمْتمہارے لیے
    11. اِنْاگر
    12. كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَتم جانو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اللہ کے عہد کو متاع قلیل کے عوض نہ بیچو جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ اشتراء بمعنی ترجیح و مبادلہ : لفظ اشتراء پر سورة بقرہ کی تفسیر میں بھی بحث کرچکے ہیں اور آل عمران کی آیت 77 کے تحت بھی۔ جب مبادلہ چیز کا چیز سے ہو، جیسا کہ عموماً زمانہ ادیم میں رواج رہا ہے تو ہر شے مبیع بھی ہوسکتی ہے اور ثمن بھی۔ اس وجہ سے کسی شے کا اشتراء اس مفہوم میں خریدنا نہیں ہوتا جس مفہوم میں ہم خریدنا بولتے ہیں بلکہ اس کا مفہوم مبادلہ ہوتا تھا۔ اس وجہ سے لفظ اشتراء مبادلہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور پھر اس مفہوم سے ترقی کرکے ترجیح دینے کے معنی بھی۔ ثمن قلیل سے مراد دنیا اور متاع دنیا ہے اور ما عنداللہ سے مراد اجر آخرت ہے۔ اجر آخرت کے مقابل میں خواہ دنیا اور متاع دنیا کی کتنی ہی بڑی مقدار حاصل ہوجائے وہ بہرحال ناچیز اور حقیر ہی ہے اس لیے کہ وہ چند روزہ اور فانی ہے اور اجر آخرت ابدی اور لازوال ہے۔ فرمایا کہ عہد الٰہی کو حقیر منفعت دنیوی کے عوض نہ فروخت کرو۔ عہد الٰہی پر قائم رہنے کا اللہ کے ہاں جو صلہ ہے اس دنیا کی منفعتوں سے بدرجہا بڑھ کر ہے اگر تم اس حقیقت کو سمجھو