Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 102

  1. قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا﴿102﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. لَقَدْ عَلِمْتَالبتہ تونے جان لیا
    3. مَآ اَنْزَلَنہیں نازل کیا
    4. هٰٓؤُلَآءِاس کو
    5. اِلَّامگر
    6. رَبُّپروردگار
    7. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    8. وَالْاَرْضِاور زمین
    9. بَصَآئِرَ(جمع) بصیرت
    10. وَاِنِّىْاور بیشک میں
    11. لَاَظُنُّكَتجھ پر گمان کرتا ہوں
    12. يٰفِرْعَوْنُاے فرعون
    13. مَثْبُوْرًاہلاک شدہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے جواب دیا کہ کہ تجھے خوب معلوم ہے کہ ان کو آسمانوں اور زمین کے رب ہی نے اتار ہے آنکھیں کھول دینے کے لیے اور میں تو تم کو اے فرعون ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حضرت موسیٰ کا جواب فرعون کو : قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَؤُلاءِ إِلا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لأظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا۔ " مثبورا " کے معنی ہلاکت زدہ کے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے فرعون کو جواب بالکل ترکی بہ ترکی دیا۔ فرمایا کہ تجھے خوب مدلوم ہے کہ یہ معجزے کسی سحر و شعبدہ کے کرشمے نہیں ہوسکتے۔ ان کی نوعیت ہی گواہی دیتی ہے کہ ان کو اتار سکتا ہے تو آسمانوں اور زمین کا رب ہی اتار سکتا ہے اور اسی نے تیری آنکھیں کھول دینے کے لیے ان کو اتارا ہے۔ اگر ان کو دیکھنے کے بعد بھی تیری آنکھیں نہیں کھلیں تو تجھ پر اللہ کی حجت تمام ہوگئی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب تیری ہلاکت کا وقت، اے فرعون ! سر پر آپہنچا ہے۔