تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 111
وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ع﴿111﴾
- وَقُلِاور کہ دیں
- الْحَمْدُتمام تعریفیں
- لِلّٰهِاللہ کے لیے
- الَّذِيْوہ جس نے
- لَمْ يَتَّخِذْنہیں بنائی
- وَلَدًاکوئی اولاد
- وَّلَمْ يَكُنْاور نہیں ہے
- لَّهٗاس کے لیے
- شَرِيْكکوئی شریک
- فِي الْمُلْكِسلطنت میں
- وَلَمْ يَكُنْاور نہیں ہے
- لَّهٗاس کا
- وَلِيٌّکوئی مددگار
- مِّنَسے۔ سبب
- الذُّلِّناتوانی
- وَكَبِّرْهُاور اس کی بڑائی کرو
- تَكْبِيْرًاخوب بڑائی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کہو کہ شکر کا سزاوار ہے وہ اللہ جس کے نہ کوئی اولاد ہے اور نہ اس کی پادشاہی میں اس کا کوئی ساجھی ہے اور نہ اس کو زلت سے بچانے کے لیے کسی مددگار کی حاجت ہے اور اس کی بڑائی بیان کرو جیسا کہ اس کا حق ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ تعالیٰ کی بلا شرکت غیرے حاکمیت کا اعلان : وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا۔
یہ سورة کے آخر میں آپ کو خدا ہی کی حمد و تکبیر اور اس کی بلا شرکت غیرے حاکمیت کے اعلان کی ہدایت ہوئی مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جس وادی میں چاہیں ٹھوکریں کھاتے پھریں لیکن تم یہ اعلان کردو کہ شکر کا سزاوار حقیقی وہ اللہ ہے جس نے نہ تو اپنے لیے کوئی اولاد بنائی، نہ اس کی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ اس کو کبھی ذلت و مقہوریت لاحق ہوتی ہے کہ اس سے بچانے کے لیے اس کو کسی حمایتی اور مددگار کی ضرورت پیش آئے۔ َلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ ، میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حمایتی اور مددگار کی ضرورت اس کو پیش آتی ہے جس کو ذلت پیش آنے کا خطرہ ہو۔ جب خدا کی شان ذلت کے ہر شائبہ سے ارفع ہے تو اس کو حمایتی اور مددگار کی کیا ضرورت۔ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا، یعنی اس کی تمام اعلی صفات کا نہایت اہتمام سے اظہار و اعلان کرو، ان مشرکین کے علی الرغم۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین