Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 15

  1. مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا﴿15﴾

    1. مَنِجس
    2. اهْتَدٰىہدایت پائی
    3. فَاِنَّمَاتو صرف
    4. يَهْتَدِيْاس نے ہدایت پائی
    5. لِنَفْسِهٖاپنے لیے
    6. وَمَنْاور جو
    7. ضَلَّگمراہ ہوا
    8. فَاِنَّمَاتو صرف
    9. يَضِلُّگمراہ ہوا
    10. عَلَيْهَااپنے اوپر (اپنے بڑے کو)
    11. وَلَا تَزِرُاور بوجھ نہیں اٹھاتا
    12. وَازِرَةٌکوئی اٹھانے والا
    13. وِّزْرَ اُخْرٰىدوسرے کا بوجھ
    14. وَاور
    15. مَا كُنَّاہم نہیں
    16. مُعَذِّبِيْنَعذاب دینے والے
    17. حَتّٰىجب تک
    18. نَبْعَثَہم (نہ) بھیجیں
    19. رَسُوْلًاکوئی رسول
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو ہدایت کی راہ چلتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے ہدایت کی راہ چلتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی اوپر وبال لاتا ہے اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی اور ہم عذاب دینے والے نہیں تھے جب تک کسی رسول کو بھیج نہ لیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْــتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔ اتمام حجت کے لیے رسول کی بعثت : یہ اوپر کے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا اپنے ہی نفع کے لیے کرے گا اور جو گمراہی کی راہ چلے گا اس کا انجام خود ہی بھگتے گا۔ کوئی دوسری جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو قوموں پر عذاب کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اختیار فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے سے پہلے اتمام حجت کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کے لیے تم کیا جلدی مچائے ہوئے ہو، اس کا ایک مرحلہ تو طے ہوچکا کہ اتمام حجت کے لیے خدا کا رسول تمہارے پاس آگیا۔ اب تو عذاب کے آنے میں صرف اتنی کسر باقی ہے کہ تم پر حجت تمام ہوجائے۔ تمہاری شامت ہی ہوگی اگر تم نے اس فرصت سے فائدہ نہ اٹھایا۔