Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 16

  1. وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا﴿16﴾

    1. وَاِذَآاور جب
    2. اَرَدْنَآہم نے چاہا
    3. اَنْ نُّهْلِكَکہ ہم ہلاک کریں
    4. قَرْيَةًکوئی بستی
    5. اَمَرْنَاہم نے حکم بھیجا
    6. مُتْرَفِيْهَااس کے خوشحال لوگ
    7. فَفَسَقُوْاتو انہوں نے نافرمانی کی
    8. فِيْهَااس میں
    9. فَحَقَّپھر پوری ہوگئی
    10. عَلَيْهَاان پر
    11. الْقَوْلُبات
    12. فَدَمَّرْنٰهَاپھر ہم نے انہیں ہلاک کیا
    13. تَدْمِيْرًاپوری طرح ہلاک
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس کے خوش حالوں کو امر کردیتے ہیں تو وہ اس میں خوب اودھم مچاتے ہیں پس ان پر بات پوری ہوجاتی ہے پھر ہم اس کو یک قلم نیست و نابود کرکے رکھ دیتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا۔ " امر " کا مفہوم : " امر " صرف حکم دینے ہی کے معنی میں نہیں آتا بلکہ بسا اوقات کسی کو ڈھیلا چھوڑ دینے ور مہلت دے دینے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ آپ کسی شخص یا گروہ سے افہام و تفہیم کی کوشش کرنے کے بعد جب تنگ آجاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ " افعلوا ما بدا لکم " جاؤ، جو تمہارے جی میں آئے کرو۔ بظاہر یہ امر ہی کا صیغہ استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا مفہوم امہال ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی سرکش لوگوں پر اپنی حجت تمام کرچکنے کے بعد ان کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح سے بھر لیں۔ " مترفین " کسی قوم کے کھاتے پیتے خوش حال طبقہ کو کہتے ہیں۔ چونکہ قوم کی باگ انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس وجہ سے سنت الٰہی یہ رہی ہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی دعوت اصلاح میں سب سے پہلے اسی طبقہ کو خطاب کیا ہے۔ پھر جب اس طبقہ نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے نہ صرف ان کو مایوس کردیا ہے بلکہ ان کے قتل کے درپے ہوگیا ہے تو نبی نے ہجرت فرمائی اور قوم عذاب الٰہی کی گرفت میں آگئی ہے۔ یہ عذاب کے معاملے میں سنت الٰہی کی مزید وضاحت ہے۔ فرمایا کہ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش حالوں کو ڈھیلا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ اس میں خوب کھل کر خدا کی نافرمانیاں اور بدمستیاں کرتے تاآنکہ ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ان کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے۔ پھر خدا ان کو پکڑتا ہے اور اس بستی کو تہ وبالا کرکے رکھ دیتا ہے۔