Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 44

Tafseer
  1. تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا﴿44﴾

    1. تُسَبِّحُپاکیزگی بیان کرتے ہیں
    2. لَهُاس کی
    3. السَّمٰوٰتُآسمان (جمع)
    4. السَّبْعُسات
    5. وَالْاَرْضُاور زمین
    6. وَمَنْاور جو
    7. فِيْهِنَّان میں
    8. وَاِنْاور نہیں
    9. مِّنْ شَيْءٍکوئی چیز
    10. اِلَّامگر
    11. يُسَبِّحُپاکیزگی بیان کرتی ہے
    12. بِحَمْدِهٖاس کی حمد کے ساتھ
    13. وَلٰكِنْاور لیکن
    14. لَّا تَفْقَهُوْنَتم نہیں سمجھتے
    15. تَسْبِيْحَهُمْان کی تسبیح
    16. اِنَّهٗبیشک وہ
    17. كَانَہے
    18. حَلِيْمًابردبار
    19. غَفُوْرًابخشنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
ساتوں آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ بیشک وہ بڑا ہی حلم والا اور بخشنے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا۔ " تسبیح " کا مفہوم : " تسبیح " کی اصل روح تنزیہہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو ان تمام نسبتوں اور صفتوں سے بری اور بالاتر قرار دینا جو اس کی اعلیٰ صفات اور شان کے منافی ہیں۔ اس کے ساتھ جب " بحمدہ " کی قید لگ جاتی ہے، جس طرح یہاں " یسبح بحمدہ " ہے تو اس کے اندر تنزیہہ کے ساتھ اثبات کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے یعنی اس کو تمام اعلی صفات سے متصف قرار دینا۔ مطلب یہ ہے کہ ایک خاص دائرہ کے اندر خدا نے تم کو اختیار بخشا ہے۔ اس سے غلط فائدہ اٹھا کر تم جو تہمتیں چاہو خدا پر جوڑو لیکن ساتوں آسمان اور زمین اور ان کے اندر جتنی مخلوقات ہیں سب خدا کی تسبیح کرتی ہیں لیکن تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا، یعنی تمہاری یہ حرکت تو ایسی ہے کہ تم پر آسمان ٹوٹ پڑتا لیکن اللہ بڑا ہی حلیم اور غفور ہے، تمہاری ان حرکتوں کے باوجود تمہیں مہلت دیے جارہا ہے۔